اصلاحات کیلئے ایک سال کی ڈیڈ لائن : IMF اہداف کے مطابق بجٹ منظوری پر اتفاق

 اصلاحات کیلئے ایک سال کی ڈیڈ لائن :  IMF   اہداف کے مطابق بجٹ منظوری پر اتفاق

ٹیکس نظام میں اصلاح، توانائی شعبے میں باقاعدہ نرخ ایڈجسٹمنٹ شیڈول اور نیب قوانین میں سخت ترامیم کی جائینگی بینظیر کفالت پروگرام کی امداد افراط زر کے مطابق بڑھانے کا فیصلہ، خصوصی اقتصادی زونز کی مراعات مرحلہ وار ختم ہونگی

 اسلام آباد (مدثر علی رانا) حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معیشت و گورننس میں بہتری کیلئے نئے سٹرکچرل اہداف مقرر ہو گئے ، مختلف شعبوں میں اہم اصلاحات ایک سال کے دوران کرنا ہوں گی۔ باؤثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کیلئے نئے سٹرکچرل بینچ مارکس پر آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق کیا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو عملدرآمد کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی گئی جن کے تحت مالی، انتظامی، سماجی، توانائی اور تجارتی شعبوں میں مرحلہ وار اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔ دستاویز کے مطابق ان اقدامات پر عملدرآمد 2026 سے 2027 کے دوران مکمل کیا جائے گا۔دستاویز کے مطابق مالیاتی اہداف کے حصول کیلئے مالی سال 2027 کا بجٹ آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق منظور کیا جائے گا اور پارلیمنٹ آئی ایم ایف اہداف کے مطابق بل کی منظوری دے گی۔ اس کے علاوہ ایف بی آر میں آڈٹ کیسز کے انتخاب کا نظام عالمی سطح پر ٹیکس کیسز کے آڈٹ کے مطابق بنایا جائے گا تاکہ عالمی معیار کے مطابق ٹیکس نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

سرکاری خریداری میں سرکاری اداروں اور سرکاری ملکیتی اداروں کو دی جانے والی ترجیحات ختم کرنے کیلئے پیپرا قوانین میں ترمیم کی جائے گی جس سے شفافیت اور مسابقت کو فروغ ملے گا۔ گورننس میں بہتری کیلئے قومی احتساب بیورو کے قانون میں ترامیم کی جائیں گی تاکہ احتساب کا نظام زیادہ شفاف، میرٹ پر مبنی اور مؤثر بنایا جا سکے ۔ اس اقدام کا مقصد بدعنوانی کے خاتمے اور ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط کرنا ہے ۔ نیب قوانین میں ترامیم کے ذریعے اینٹی منی لانڈرنگ اور اینٹی ٹیرر فنانسنگ کی شقیں شامل کی جائیں گی۔سماجی تحفظ کے تحت حکومت کی جانب سے کم آمدنی والے طبقے کیلئے بے نظیر کفالت پروگرام کے تحت دی جانے والی مالی امداد میں افراطِ زر کے مطابق سالانہ اور سہ ماہی بنیادوں پر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مستحقین کی حقیقی قوتِ خرید برقرار رہے ۔مالیاتی و زرِ مبادلہ اصلاحات کے تحت اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کے نظام کو بتدریج آزاد کرنے کیلئے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا جائے گا جس سے معیشت میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی طرف اہم اقدامات کرتے ہوئے گیس اور بجلی کے نرخوں میں باقاعدہ ردوبدل کا شیڈول جاری کیا گیا ہے ۔ گیس ٹیرف میں نیم سالانہ ایڈجسٹمنٹ یکم جولائی 2026 اور 15 فروری 2027 کو کی جائے گی جبکہ بجلی کے نرخوں میں سالانہ ایڈجسٹمنٹ 15 جنوری 2027 سے ہوگی۔ ان اقدامات کا مقصد توانائی کے نرخوں کو لاگت کے مطابق رکھنا ہے ۔دستاویز کے مطابق تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے خصوصی اقتصادی زونز کیلئے دی جانے والی مالی مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے اور منافع پر مبنی مراعات کی جگہ لاگت پر مبنی نظام متعارف کرانے کیلئے قانون سازی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی مختلف اداروں کے اختیارات کو محدود کر کے ایک یکساں اور شفاف سرمایہ کاری ماحول فراہم کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ 2035 تک تمام مالی مراعات کے خاتمے کیلئے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جائے گا۔ریگولیٹری نظام کی بہتری کیلئے حکومت ریگولیٹری رجسٹری قائم کرے گی جو کاروباری قوانین کیلئے ایک جامع اور مستند پلیٹ فارم ہوگا۔ اس اقدام سے سرمایہ کاروں کیلئے غیر یقینی صورتحال میں کمی اور شفافیت میں اضافہ متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ان اہداف پر اتفاق کیا گیا ہے کہ اصلاحات معیشت کو مستحکم کرنے ، سرمایہ کاری بڑھانے اور حکمرانی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے ناگزیر ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف مالیاتی خسارہ کم ہوگا بلکہ کاروباری ماحول بھی مزید سازگار بنایا جا سکے گا۔ذرائع کے مطابق مئی کے پہلے ہفتے کے دوران پاکستان کو آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے ۔ سرمایہ کاری بورڈ حکام نے گزشتہ ہفتے سپیشل اکنامک زونز ترمیمی ایکٹ پر بریفنگ کے دوران پارلیمانی قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ آئی ایم ایف نے 2035 تک سپیشل اکنامک زونز کو دی گئی مراعات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے سپیشل اکنامک زونز کے تحت پائلٹ پراجیکٹ 2028 سے شروع کیا جائے گا۔ حکومتی اہداف کے مطابق اگر سرمایہ کاری اور نتائج حاصل ہوئے تو آئی ایم ایف کو 2035 کے بعد بھی مراعات جاری رکھنے کی درخواست کی جائے گی، اور اگر اہداف کے مطابق سرمایہ کاری اور نتائج حاصل نہ ہوئے تو آئی ایم ایف شرائط کے مطابق 2035 کے بعد اسپیشل اکنامک زونز کیلئے دی گئی مراعات ختم کر دی جائیں گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں