آئینی اختیارات محدود کرنے کی روایت قبول نہیں:سپیکر پنجاب اسمبلی

آئینی اختیارات محدود کرنے کی روایت قبول نہیں:سپیکر پنجاب اسمبلی

ایسے ادارے موجود نہیں جو قانون نافذ کرنیوالوں کو خود قانون کی پاسداری سکھا سکیں ٹیکس سے متعلق ہر فیصلہ اسمبلی ہی کرے گی، ارکان اپنی ذمہ داری پوری کریں:ملک احمد

لاہور (سیاسی نمائندہ) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ ایس آر اوز (قانونی ریگولیٹری احکامات) کے ذریعے آئینی اختیارات کو محدود کرنے کی روایت قابلِ قبول نہیں، اور یہ سوال اٹھایا کہ وہ کب تک ان اقدامات کے خلاف دیوار بن کر کھڑے رہیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین سازی اور ٹیکسیشن کا اختیار صرف اسمبلی کے پاس ہے ، جسے کسی صورت دیگر اداروں کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔پنجاب اسمبلی میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ 70 برس گزرنے کے باوجود ایسے ادارے موجود نہیں جو قانون نافذ کرنے والوں کو خود قانون کی پاسداری سکھا سکیں، حالانکہ انہی کے ہاتھ میں ملک کی تقدیر ہے۔

انہوں نے اسمبلی کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس لگانے کا اختیار صرف منتخب عوامی نمائندوں کے پاس ہونا چاہیے ۔انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس سے متعلق ہر فیصلہ اب اسمبلی ہی کرے گی اور کسی کو آئینی اختیارات سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سپیکر نے ارکان اسمبلی پر زور دیا کہ وہ اپنی نمائندگی کی ذمہ داری پوری کریں اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے فعال کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی سے لڑائی کا تاثر درست نہیں، بلکہ زرعی انکم ٹیکس کا معاملہ آئینی دائرہ کار کا ہے ۔ اگر کوئی ملک ترقی کرتا ہے تو اس کا راستہ پارلیمنٹ سے ہی گزرتا ہے ، نہ کہ غیر منتخب اداروں سے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں