الزائمر کی بیماری کی تشخیص میں بڑی پیشرفت

الزائمر کی بیماری کی تشخیص میں بڑی پیشرفت

لاہور(نیٹ نیوز)ماہرین نے خون کے ٹیسٹ اور دماغی سکین کے دو نئے طریقوں کو الزائمر کی ابتدائی تشخیص کے لیے اہم سنگ میل قرار دے دیا۔

خون کے ٹیسٹ میں ایسے پروٹینز (امیلوئیڈ بیٹا اور ٹاؤ) کی نشاندہی کی گئی ہے جو دماغی کمزوری اور یادداشت کی خرابی سے جڑے ہیں۔امریکی تحقیق میں 61 سال اوسط عمر کے 1,350 افراد پر تجربہ کیا گیا، جس میں زیادہ بایومارکر رکھنے والوں کی یادداشت اور دماغی کارکردگی کمزور پائی گئی۔ یہ ٹیسٹ امریکا میں ایف ڈی اے سے منظور ہو چکا ہے ، مگر برطانیہ میں ابھی دستیاب نہیں۔دماغی سکین کے دوسرے مطالعے میں ایک نیا ریڈیئشن ٹریسر (MK6240) استعمال کیا گیا، جو موجودہ طریقے سے دو گنا زیادہ مؤثر ثابت ہوا اور ابتدائی مریضوں میں ٹاؤ پروٹین کی موجودگی بہتر انداز میں دکھائی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں