خلیجی ممالک کو سوچنا ہوگا امریکی اڈے نقصان کا باعث ہیں : فضل الرحمٰن
پاکستان ثالثی کرکے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا رہا ،حکمرانوں کا موجودہ عروج عارضی :سربراہ جے یو آئی پالیسیوں میں بہتری لانے کی ضرورت ، عمران کو رہا کرکے سیاسی کردار کا موقع دینا چاہیے :صحافیوں سے گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو سوچنا ہوگا امریکی اڈے اُن کیلئے نقصان کا باعث ہیں، پاکستان ثالثی کرکے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا رہا ہے مگر حکمرانوں کا موجودہ عروج عارضی ہے ، ہمیں مستقل پالیسیوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ، عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دینا چاہیے ، ہم تحریک انصاف کے ساتھ رابطے میں رہے لیکن کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں سینئر صحافیوں اور اینکرز مجیب الرحمن شامی، حفیظ اللہ نیازی، سہیل وڑائچ، افتخار احمد، حبیب اکرم، نوشاد علی اور محمد الیاس کے ساتھ خصوصی نشست کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا کہ امریکہ کے ایئر بیسز ان کیلئے دفاعی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں بھی جنگ کا حصہ بن جائیں گی ،سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کو ہم نے سراہا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عجلت ہے اور افغانستان کو مہلت چاہیے ،دنیا میں سرمایہ داریت، آمریت اور عسکریت کے اشتراک سے نظام چل رہا ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سی پیک عمران خا کے دور میں بند ہوا اور اب تک بند ہے ،2018 اور 2024 میں انتخابات ایک جیسے ہوئے ہیں ، دنیا میں دھاندلی کے الزامات حکومتوں اور سیاستدانوں پر جبکہ ہمارے ہاں اداروں پر لگتے ہیں ۔ جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کا قانون پاس کرکے بھی انہیں کام کرنے دیا جارہا، نہ رجسٹریشن کی جارہی بلکہ انہیں جبری طور پر حکومتی بورڈز کا حصہ بننے پر مجبور کیا جارہا ہے۔