ایرانی وفد پاکستان کو نیوکلیئر پروگرام پر اپنا موقف بتانے آیا
ڈرافٹ تیارہو، دونوں ملک تسلیم کرلیں تو پھر ملاقات اور دستخط ہوسکتے ہیں ایرانی سوچ ہے ہر بات پاکستان سے کی جائے :’’ آج کی بات سیٹھی کیساتھ‘‘
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے ایرانی وفد پاکستان کو یہ بتانے آیا کہ ان کا نیوکلیئر پر موقف کیا ہے ،آبنائے ہرمز ، حزب اللہ، حوثی اور حماس کے بارے کیا موقف ہے ،ایران نے پاکستان کو اپنا موقف بتا دیا ہے ،ایرانی وفد اپنا موقف بتا کر چلا گیا، انہوں نے پاکستان کو کہا یہ ہمارے مطالبے ہیں، امریکا کو بتا دیں، امریکا نہیں مانتا تو ہم جنگ جاری رکھیں گے ۔ ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل سے بیان آیا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ امریکا سے بات کرنے نہیں گئے ،ایرانی وفد نے پاکستان کے ساتھ جو با ت کرنی تھی وہ کرلی ہے۔
دنیا نیوز کے پروگرام’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے ڈائریکٹ امریکا سے بات نہیں کی ، اس لئے امریکا سے ڈائریکٹ بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، جب امریکا سے بات کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے ،ایران کی یہی سوچ ہے کہ جو بھی بات کرنی ہے پاکستان سے کی جائے ، کیونکہ پاکستان کا رول سہولت کاری کا نہیں بلکہ ثالثی کا ہے ،اس لئے ایران نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کو زیادہ بڑا رول دیا جائے ،پاکستان سے کہا کہ آپ درمیان میں بیٹھ کر بات کریں، ہمارا موقف امریکا کو سمجھائیں، ہم نے امریکا سے بات نہیں کرنی،امریکا سے کوئی آیا، تو وہ آکر پاکستان کو اپنا موقف بتائیں گے۔
مذاکرات کے حوالے سے اختلافات تھے، ایران کے اندر ان لوگوں پر تنقید ہورہی تھی جو مذاکرات کے حامی تھے ،اب ایران کی طرف سے یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ا مریکا کے ساتھ براہ راست اس وقت تک بات نہیں ہو گی، جب تک سارے معاملات پاکستان کے ذریعے طے نہیں ہوجاتے ،جب معاملات طے ہوں گے تو امریکا سے بات ہو گی،اس وقت بات انگوٹھا لگانے والی ہو گی،پھر یہ نہیں ہوگا کہ امریکا اٹھ کر چلاجائے جو پچھلی بار ہوا تھا۔ایران چاہتا ہے کہ ہمارے تمام تحفظات دور ہو جائیں،پھرڈرافٹ تیار ہو،جب ڈرافٹ تیار ہوجاتا ہے ، دونوں تسلیم کرلیں گے تو پھر ملاقات ہوسکتی ہے ، اس پر دستخط ہوسکتے ہیں۔