امریکا ، ایران آن لائن مذاکرات جاری: عراقچی کی روسی صدر سے ملاقات ہر وہ کام کرینگے جو ایران اور خطے کے مفاد میں ہو: پوٹن ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

 امریکا ، ایران آن لائن مذاکرات جاری: عراقچی کی روسی صدر سے ملاقات ہر وہ کام کرینگے  جو ایران اور خطے کے مفاد میں ہو: پوٹن ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ایران کی مرحلہ وار مذاکرات کی تجویز،پہلے دوبارہ جنگ نہ ہونیکی ضمانت، پھر امریکی ناکہ بندی و آبنائے ہرمز پر بات چیت، اس کے بعد جوہری معاملہ دیکھنے کا مطالبہ، ٹرمپ کا سلامتی مشیروں کیساتھ ملاقات میں تجویز پر غور معاہدہ نہ ہونیکا ذمہ دار واشنگٹن :ایرانی وزیر خارجہ،اسلام آباد کی سڑکیں کھل گئیں،خالی کرائے گئے لگژری ہوٹل میں پھرسے عوامی بکنگ ،آبنائے ہرمز بند،24 گھنٹوں میں 7جہازوں نے تیل کے بغیر یہ راستہ اختیار کیا

واشنگٹن ، اسلام آباد، دبئی (رائٹرز،اے ایف پی)ذرائع کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوششیں بدستور جاری ہیں، حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے ایلچیوں کا دورہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں منسوخ کیے جانے کے بعد براہِ راست سفارتکاری نہیں ہو رہی۔ایرانی ذرائع نے پیر کے روز تہران کی تازہ تجویز کا انکشاف کیا، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو جنگ کے خاتمے اور خلیج میں جہاز رانی سے متعلق تنازعات کے حل تک مؤخر کر دیا جائے گا۔ تاہم یہ تجویز واشنگٹن کیلئے قابلِ قبول ہونے کا امکان کم ہے ، کیونکہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ جوہری معاملات پر ابتدا ہی سے بات ہونی چاہیے ۔امن کی کوششوں کی بحالی کی امیدیں اس وقت ماند پڑ گئیں جب امریکی صدر نے ہفتے کے روز اپنے ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا۔

اسلام آباد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے اختتام پر دو مرتبہ آنا جانا کیا تھا۔عراقچی نے ہفتے کے آخر میں عمان کا بھی دورہ کیا اور پیر کے روز روس گئے ، جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی اور ایک دیرینہ اتحادی کی جانب سے حمایت کے بیانات حاصل کیے ۔سینئر ایرانی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ ہفتے کے اختتام پر عباس عراقچی کی جانب سے اسلام آباد لائی گئی تجویز میں مرحلہ وار مذاکرات کا تصور پیش کیا گیا ہے ، جس میں ابتدائی مرحلے پر جوہری مسئلے کو ایک طرف رکھا جائے گا۔پہلے مرحلے میں امریکا، اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے اور اس بات کی ضمانت درکار ہوگی کہ واشنگٹن اسے دوبارہ شروع نہیں کر سکے گا۔ اس کے بعد مذاکرات کار امریکی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق معاملات حل کریں گے ، جسے ایران اپنی نگرانی میں دوبارہ کھولنا چاہتا ہے ۔تبھی دیگر معاملات پر بات چیت آگے بڑھے گی، جن میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق دیرینہ تنازع بھی شامل ہے۔

ایران اب بھی اس بات کا خواہاں ہے کہ امریکا کسی نہ کسی شکل میں اس کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرے ، جسے وہ اپنے بقول پُرامن مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے ۔پس منظر میں ایران کا مؤقف یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت ہر ملک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے ، جس میں تحقیق اور ایندھن کی تیاری شامل ہو سکتی ہے ۔ تاہم امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ یہی افزودگی مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت بھی فراہم کر سکتی ہے ، اسی لیے یہ معاملہ مذاکرات میں سب سے بڑا اختلافی نکتہ بنا ہوا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے مطابق ایرانی تجویز پر غور کیلئے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے پیر کے روز اپنے اعلیٰ سکیورٹی مشیروں کیساتھ ملاقات کی ہے ۔ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے اس مبینہ منصوبے کے بارے میں جس کے تحت ایران اور امریکا دونوں اپنی پابندیاں ہٹا سکتے ہیں اور بعد میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے حساس معاملے پر مزید بات چیت ہو سکتی ہے ، تبصرہ کرتے ہوئے کہا اس تجویز پر بات چیت جاری ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ آیا ٹرمپ اس تجویز کو قبول کریں گے یا نہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک انٹرویو میں کہا آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کا مؤقف امریکی مطالبات پر پورا نہیں اترتا، یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کیلئے استعمال ہوتی ہے ،اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ آبنائے کھلی ہے لیکن آپ کو ایران سے اجازت لینی ہوگی، یا وہ ہمیں دھمکا کر کہیں گے کہ ہم آپ کو نقصان پہنچائیں گے اور آپ ہمیں پیسے دیں، تو یہ آبنائے کو کھولنا نہیں ہے ۔انہوں نے کہا ہم اس بات کو قبول نہیں کر سکتے کہ ایران ایک ایسا نظام معمول پر لائے جس میں وہ یہ فیصلہ کرے کہ کون بین الاقوامی آبی گزرگاہ استعمال کر سکتا ہے اور اس کے بدلے کتنا پیسہ دینا ہوگا۔چونکہ متحارب فریقین ایران کے جوہری عزائم اور اہم آبنائے ہرمز سے گزرنے کے معاملات سمیت کئی امور پر اب بھی ایک دوسرے سے کافی دور نظر آتے ہیں، اس لیے پیر کو تجارت دوبارہ شروع ہونے پر تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ دیکھنے میں آیا۔

برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 3اعشاریہ 5 فیصد اضافے کے ساتھ 1500 جی ایم ٹی تک تقریباً 108اعشاریہ 8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔اس بات کے اشارے کے طور پر کہ فی الحال آمنے سامنے ملاقاتوں کا کوئی امکان نہیں، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی سڑکیں دوبارہ کھول دی گئیں، جنہیں ایک ہفتے تک اُن مذاکرات کی توقع میں بند رکھا گیا تھا جو آخرکار ہو ہی نہیں سکے ۔ وہ لگژری ہوٹل بھی، جسے مذاکرات کے مقام کے طور پر خالی کرایا گیا تھا، دوبارہ عوام کیلئے بکنگ لینے لگا ہے ۔پاکستانی حکام کے مطابق مذاکرات اب بھی جاری ہیں، لیکن یہ آن لائن یا بالواسطہ طور پر ہو رہے ہیں، اور اس وقت تک کسی براہِ راست ملاقات کا منصوبہ نہیں جب تک فریقین اس حد تک قریب نہ آ جائیں کہ کسی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم) پر دستخط کیے جا سکیں۔ دونوں فریق بظاہر ایک دوسرے کے خلاف صبر آزما مقابلے کی پوزیشن میں ہیں، یہ دیکھنے کے لیے کہ کون معاشی دباؤ کو زیادہ دیر تک برداشت کر سکتا ہے اور کب رعایت دینے پر آمادہ ہوتا ہے۔

ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے گزرنے والی تقریباً تمام جہاز رانی، سوائے اپنے جہازوں کی، بڑی حد تک روک رکھی ہے ۔ اس کے جواب میں امریکا نے اس ماہ ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے ۔جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ دنوں میں ایرانی تیل سے بھرے 6 ٹینکرز کو امریکی ناکہ بندی کے باعث واپس جانا پڑا، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جنگ نے سمندری آمدورفت پر کس قدر اثر ڈالا ہے ۔جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 125 سے 140 جہاز آبنائے سے گزرتے تھے ، لیکن گزشتہ ایک دن میں صرف 7جہازوں نے یہ راستہ اختیار کیا، اور ان میں سے کوئی بھی عالمی منڈی کیلئے تیل لے کر نہیں جا رہا تھا۔

سینٹ پیٹرزبرگ (اے ایف پی) روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پیر کے روز سینٹ پیٹرزبرگ میں ایران کے اعلیٰ سفارتکار سے ملاقات کے دوران کہا کہ ماسکو مشرقِ وسطٰی ٰ میں امن کے قیام کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روس پہنچنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لڑائی کے خاتمے کیلئے معاہدے کی کوششوں کی ناکامی کا ذمہ دار واشنگٹن ہے ، جبکہ فریقین کے درمیان جنگ بندی اب  بھی برقرار ہے ۔روسی سرکاری میڈیا کے مطابق پوٹن نے عراقچی سے کہا ہم اپنی طرف سے ہر وہ کام کریں گے جو آپ کے مفاد اور خطے کے تمام عوام کے مفاد میں ہو، تاکہ جلد از جلد امن قائم ہو سکے ۔خبر رساں ایجنسی TASS کے مطابق پوٹن نے یہ بھی کہا کہ ایران کے عوام جس بہادری اور جرات کے ساتھ اپنی آزادی اور خودمختاری کیلئے لڑ رہے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے ۔کریملن کے سربراہ نے مزید کہاکہ روس ایران کی طرح سٹریٹجک تعلقات کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں