آبنائے ہرمز کا معاملہ زیادہ طول نہیں پکڑ سکتا:کامران یوسف
امریکا، ایران بالواسطہ مذاکرات جاری، تجاویز کا تبادلہ مگر ڈیڈ لاک برقرار سعودیہ میں اہم مشاورت، پاکستانی کوششیں تیز: ’’دنیا مہر بخاری کیساتھ‘‘
لاہور ( دنیا نیوز )سینئر صحافی و تجزیہ کار کامران یوسف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ مذاکرات اس حد تک کامیاب قرار دئیے جا سکتے ہیں کہ دونوں جانب سے تجاویز دستاویزی شکل میں ایک دوسرے کو فراہم کر دی گئی ہیں۔دنیا نیوز کے پروگرام ‘‘دنیا مہر بخاری کے ساتھ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ہرمز کھولنے کی بات کی ہے ، جبکہ مارکو روبیو کے مطابق ان تجاویز کو ٹرمپ نے تاحال قبول نہیں کیا۔ ایران چاہتا ہے کہ امریکا پہلے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے ، جس کے بعد ایٹمی مواد سمیت دیگر تمام معاملات پر بات چیت ہو سکتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا تمام مطالبات ایک ہی مرحلے میں طے کرنا چاہتا ہے اور مرحلہ وار مذاکرات کے بجائے فوری اور جامع ڈیل کا خواہاں ہے۔
یہی بنیادی اختلاف دونوں ممالک کے درمیان تعطل کی بڑی وجہ ہے ۔ امریکا خطے سے مکمل طور پر نکلنا چاہتا ہے ، جبکہ ایران اس صورتحال کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے ۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ ایران اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا، تاہم پس پردہ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں اور کسی بھی وقت صورتحال اچانک تبدیل ہو سکتی ہے ۔ آبنائے ہرمز کا معاملہ زیادہ دیر تک طول نہیں پکڑ سکتا اور اس کا جلد حل نکلنا ناگزیر ہے ، چاہے وہ سفارتکاری کے ذریعے ہو یا کسی اور طریقے سے ۔ سعودی عرب میں اس حوالے سے ایک اہم اجلاس بھی جاری ہے ، جبکہ پاکستان بھی سفارتی سطح پر متحرک ہے اور مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جائے تاکہ کشیدگی کا مستقل حل نکالا جا سکے۔