بھرتیوں سے گریز، ون ڈش کا نفاذ: خیبرپختونخوا اسمبل میں قرارداد منظور : وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کو سراہا

 بھرتیوں سے گریز، ون ڈش کا نفاذ: خیبرپختونخوا اسمبل میں قرارداد منظور : وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کو سراہا

شادی ہالز رات 10،تجارتی مراکز 9بجے بند کرنے کی تجویز ، ڈرون حملوں کی روک تھام سے متعلق قرار داد بھی پاس ارکان کا ہسپتالوں کی آئوٹ سورسنگ پالیسی، امن و امان کی بگڑتی صورتحال اورصوبائی حکومت کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار

پشاور (نیوز ایجنسیاں )خیبرپختونخوا اسمبلی نے کفایت شعاری کو قومی رویہ بنانے ، ون ڈش پالیسی کے مؤثر نفاذ، شادی ہالز کو رات 10 بجے تک بند کرنے اور غیر ضروری سرکاری بھرتیوں سے گریز سمیت اہم سفارشات پر مشتمل قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ اسی اجلاس میں تحصیل باڑہ میں ڈرون حملوں کی روک تھام سے متعلق ایک اور قرارداد بھی منظور کی گئی جن میں وسائل کے مؤثر استعمال اور عوامی تحفظ کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا گیا۔ ارکان نے ہسپتالوں کی آئوٹ سورسنگ پالیسی، امن و امان کی بگڑتی صورتحال اورصوبائی حکومت کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا ،مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی آمنہ سردار نے کفایت شعاری سے متعلق قرارداد پیش کرتے ہوئے موجودہ معاشی حالات میں اسے ناگزیر قرار دیا۔ قرارداد میں وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کو سراہتے ہوئے اسے قومی سطح پر اپنانے پر زور دیا گیا۔متن میں سرکاری اداروں میں وسائل اور توانائی کے ذمہ دارانہ استعمال، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور سادگی کے فروغ کی سفارش کی گئی۔

تعلیمی اداروں میں کفایت شعاری سے متعلق آگاہی نصاب اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے اجاگر کرنے اور عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی گئی۔مزید سفارشات میں ون ڈش پالیسی پر سختی سے عملدرآمد، شادی ہالز کے اوقات رات 10 بجے اور تجارتی مراکز کو رات 9 بجے بند کرنے کی تجویز شامل تھی۔ ساتھ ہی غیر ضروری سرکاری اسامیوں اور انتظامی ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لے کر عملے کی تعداد کو ضرورت کے مطابق محدود کرنے پر زور دیا گیا۔دوسری قرارداد میں رکن اسمبلی عبدالغنی نے تحصیل باڑہ میں مبینہ ڈرون حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پرامن علاقے میں مسلسل حملوں سے شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ ایوان سے مطالبہ کیا گیا کہ ان حملوں کی فوری روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی رکن عبیدالرحمن نے توجہ دلا ئونوٹس پیش کرتے ہوئے صوبے میں ہسپتالوں کو آئوٹ سورس کرنے کی پالیسی پر سنگین خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے متعدد ہسپتال نجی اداروں کے حوالے کیے جا رہے ہیں جن میں بعض ایسے ہسپتال بھی شامل ہیں جہاں حالیہ عرصے میں کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ ایسے ادارے کو آئوٹ سورس کرنا نہ صرف کارکردگی کو متاثر کرے گا بلکہ تدریسی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ اجلاس کے دوران اراکین نے امن و امان کی بگڑتی صورتحال، مہنگائی، توانائی بحران اورصوبائی حکومت کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔عوامی نیشنل پارٹی کے رکن نثار باز نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں جبکہ کھیلوں اور تفریحی سرگرمیاں بھی معطل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو وفاق کے ساتھ سنجیدگی سے اٹھایا جائے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں