پاکستان میں ٹیلی میڈیسن خواتین ڈاکٹرز کو واپس لانے کا ذریعہ
کراچی(اے ایف پی)پاکستان میں ہزاروں خواتین ڈاکٹرز، جو خاندانی ذمہ داریوں اور معاشرتی رکاوٹوں کے باعث پیشہ ورانہ زندگی چھوڑ چکی تھیں، اب ٹیلی میڈیسن کے ذریعے دوبارہ طبی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں خواتین کی طبی رجسٹریشن مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے ، تاہم شادی کے بعد بڑی تعداد میں خواتین ڈاکٹرز عملی میدان سے الگ ہو جاتی ہیں، جس سے صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی پیدا ہوتی ہے ۔ڈاکٹر ثانیہ جعفری نے بھی شادی کے بعد کارڈیالوجی کا شعبہ چھوڑ دیا تھا۔ ان کے مطابق طویل اوقات کار اور گھر سے دور رہنا ان کے لیے ممکن نہ تھا، تاہم ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارم صحت کہانی نے انہیں گھر بیٹھے مریضوں کو طبی مشاورت فراہم کرنے کا موقع دیا، جس سے وہ دوبارہ پیشے سے منسلک ہو سکیں۔ادارے کے شریک بانی کے مطابق اب تک تقریباً 7,500 خواتین ڈاکٹرز کو دوبارہ عملی میدان میں لایا جا چکا ہے ۔ اس نظام کے تحت خواتین ڈاکٹرز نہ صرف نجی مریضوں کو خدمات فراہم کر رہی ہیں بلکہ دور دراز اور کم سہولت یافتہ علاقوں میں بھی مریضوں تک رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔