غیر قانونی تعمیرات :بدعنوان افسروں کیخلاف کارروائی شروع

غیر قانونی تعمیرات :بدعنوان  افسروں کیخلاف کارروائی شروع

کراچی (سید علی مہدی )شہر میں جاری غیر قانونی تعمیرات پر تحقیقاتی ادارے حرکت میں آگئے ۔

محکمہ اینٹی کرپشن سندھ نے ضلع شرقی سمیت دیگر اضلاع اور علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کرپٹ افسران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے ۔ شہر میں 220 خلاف ضابطہ تعمیرات پر ڈی جی ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوٹو سمیت متعلقہ ڈائریکٹرز ، ڈپٹی ڈائریکٹرز ، اسٹنٹ ڈائریکٹرز اور سینئر بلڈنگ انسپکٹرز کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ۔ایس بی سی اے حکام کو جاری نوٹس کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن کی ابتدائی تحقیقات میں ضلع شرقی میں جاری غیر قانونی تعمیرات میں متعلقہ افسران  کی مبینہ ملی بھگت کا انکشاف ہوا ہے جس پر متعلقہ افسران سمیت ادارے کے سربراہ کے خلاف بھی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں ۔ جس کی باقاعدہ منظوری اعلی حکام کی جانب سے دے دی گئی ہے ۔ اینٹی کرپشن کی جانب سے ایس بی سی اے حکام کو ارسال کردہ مراسلے میں اعلیٰ افسران کے خلاف تحقیقات اور طلبی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ مراسلہ کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر ڈائریکٹر شاہد خشک، ڈپٹی ڈائریکٹر آصف شیخ، ڈپٹی ڈائریکٹر مبشر شیخ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز شیخ کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔مراسلہ کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن نے 220 عمارتوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے تمام افسران کو 6 مئی 2026 کو مطلوبہ ریکارڈ سمیت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے دفتر میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔ مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ متعلقہ ریکارڈ، بلڈنگ پلانز، 220 پلاٹس کی مکمل فہرست اور اب تک کی گئی کارروائی کی تفصیلات پیش کی جائیں۔ پیشی کے موقع پر افسران کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے ۔مراسلہ کے مطابق غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کیس کو ہنگامی قرار دے دیا گی ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر مزید ایس بی سی اے افسران کے خلاف بھی کارروائی متوقع ہے ۔ واضع رہے کہ ضلع شرقی سمیت شہر کے مخلتف علاقوں ملمیں قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہیں، جس سے نہ صرف شہری انفرااسٹرکچر پر بوجھ بڑھ رہا ہے بلکہ سہولیات کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔ جبکہ متعلقہ افسران شہریوں کی شکایات پر کاروائی سے بھی گریزہ ہیں ۔ شہریوں کی جانب سے مسلسل کی جانے والی شکایات ردی کہ ٹوکری کی نظر کی جارہی ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں