ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی حکمت عملی الٹی پڑ گئی: ایران کے متحدہ عرب امارات پر حملے بندرگاہ پر آتشزدگی ، بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، تیل کی قیمتیں بلندی پر
ایران کے طاقت کے مظاہرے سے صورتحال مزید کشیدہ ، خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل ،امریکا کا ایران کی 6چھوٹی کشتیاں تباہ کرنے ،آبنائے ہرمز سے 2بحری جہاز گزارنے کا دعویٰ،پاسداران انقلاب کی تردید عمان میں 2 ،امارات میں 3غیر ملکی زخمی،کورین جہاز میں دھماکا،آتشزدگی ،چین آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران پر دبائو ڈالے :امریکی وزیر خزانہ ،امریکا نے ایرانی بحری جہاز کے 15 ارکان کو پاکستان کے ذریعے واپس بھیج دیا
دبئی،واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں ) ایران نے پیر کے روز آبنائے ہرمز میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ، متحدہ عرب امارات میں حملے کی اطلاعات سامنے آئیں ، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ۔ اس طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی بحریہ کو استعمال کرتے ہوئے جہاز رانی بحال کرنے کی کوشش جنگ بندی کے اعلان کے چار ہفتے بعد سب سے بڑی کشیدگی کا سبب بن گئی۔ٹرمپ کا نیا مشن "پراجیکٹ فریڈم"جس کا اعلان انہوں نے راتوں رات سوشل میڈیا پر کیا، آبنائے میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے شروع کیا گیا۔ یہ بظاہر دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے بحری طاقت کے استعمال کی پہلی بڑی کوشش ہے ۔تاہم پیر کے ابتدائی گھنٹوں میں یہ حکمتِ عملی الٹی پڑتی دکھائی دی۔ آبنائے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا، جبکہ ایران کی جانب سے طاقت کے مظاہرے نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔
ایران پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ کسی بھی کشیدگی میں اضافے کے جواب میں وہ اپنے پڑوسی ممالک پر نئے حملے کر سکتا ہے ۔امریکی فوج کے مطابق دو امریکی تجارتی جہاز آبنائے سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کب ہوا۔ دوسری جانب ایران نے ایسے کسی بھی جہاز کے گزرنے کی تردید کی ہے ۔خطے میں امریکی افواج کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ان کے بیڑے نے ایران کی 6 چھوٹی کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے ، جس کی ایران نے تردید کی۔ ایڈمرل کوپر نے مزید کہا کہ انہوں نے ایرانی افواج کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ وہ اس مشن کے دوران امریکی فوجی اثاثوں سے دور رہیں۔ایرانی حکام نے اپنی جانب سے ایک نقشہ جاری کیا، جس کے مطابق ان کے دعوے کے تحت اب ایک وسیع سمندری علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے ۔ یہ علاقہ آبنائے ہرمز سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا دکھایا گیا، جس میں بین الاقوامی پانیوں کے بڑے حصے اور متحدہ عرب امارات کے ساحل کی طویل پٹیاں بھی شامل ہیں۔جنوبی کوریا نے اطلاع دی کہ اس کا ایک تجارتی جہاز آبنائے کے اندر دھماکے اور آگ کی زد میں آ گیا۔
برطانوی بحری سکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب دو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اماراتی تیل کمپنی ADNOC نے بتایا کہ اس کا ایک خالی آئل ٹینکر آبنائے عبور کرنے کی کوشش کے دوران ایرانی ڈرون حملے کا نشانہ بنا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو سوشل میڈیا پر لکھاکہ ایران نے جہازوں کی نقل و حرکت اور پراجیکٹ فریڈم کے حوالے سے غیر متعلقہ ممالک کو بھی نشانہ بنایا ہے ، جن میں ایک جنوبی کوریائی کارگو جہاز بھی شامل ہے ۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا بھی اس مشن میں شامل ہو۔متحدہ عرب امارات کے اندر دن بھر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات ملتی رہیں جن میں ایک اہم تیل بندرگاہ میں آگ لگنے کا واقعہ بھی شامل تھا، جس میں 3 بھارتی کارکن زخمی ہو ئے ۔امارات نے کہا کہ ایرانی حملے ایک سنگین کشیدگی کی علامت ہیں اور اسے جواب دینے کا حق محفوظ ہے ۔ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک نامعلوم سینئر فوجی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کا متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
عمان کا کہنا ہے کہ ولایتِ بخا کے ایک قصبے میں واقع رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں2غیر ملکی زخمی ہو گئے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل میں خلل کا حل تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ پیر کے روز دونوں متحارب فریقوں نے امریکی مشن کے ابتدائی اثرات کے بارے میں متضاد بیانات جاری کیے ۔ فوری طور پر ایسے کوئی آثار نظر نہیں آئے کہ بڑی تعداد میں تجارتی جہاز دوبارہ آبنائے سے گزرنے کی کوشش کررہے ہوں، جبکہ بڑی شپنگ کمپنیوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر کشیدگی کے باضابطہ خاتمے تک انتظار کریں گی، اس کے بعد ہی بحری راستہ استعمال کیا جائے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ اس کے بحری بیڑے کے کچھ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر خلیج میں موجود ہیں اور آپریشن کی معاونت کر رہے ہیں، جبکہ امریکی پرچم بردار دو تجارتی جہاز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں اور بحفاظت اپنے سفر پر گامزن ہیں۔
تاہم بیان میں نہ تو ان جنگی جہازوں اور نہ ہی تجارتی جہازوں کے نام ظاہر کیے گئے ، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ گزرگاہ کب عبور کی گئی۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند گھنٹوں میں کوئی بھی تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا اور امریکی دعوے بے بنیاد ہیں۔اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ اس نے آبنائے کی جانب بڑھنے والے ایک امریکی جنگی جہاز پر فائرنگ کی، جس کے بعد اس جہاز کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ ابتدائی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جہاز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم امریکا نے اس کی تردید کی، جبکہ بعد میں ایرانی حکام نے اسے محض وارننگ فائر قرار دیا۔جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق نامو نامی ایک تجارتی جہاز جو جنوبی کوریائی شپنگ کمپنی ایچ ایم ایم کے زیرِ انتظام ہے ، میں دھماکے اور آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے فجیرہ بندرگاہ میں ایک تیل تنصیب پر آگ لگنے کی تصدیق کی، جو مبینہ طور پر ایرانی ڈرون حملے کے بعد پیش آئی۔ فجیرہ آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے ، اس لیے یہ خطے سے تیل برآمد کرنے کے اُن چند متبادل راستوں میں شامل ہے جن کے لیے آبنائے سے گزرنا ضروری نہیں ہوتا ۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پر سفارتی دباؤ بڑھائے تاکہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دے ۔انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ اگلے ہفتے ملاقات میں اس معاملے پر بات کریں گے۔
اسلام آباد (اے پی پی،مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کی طرف سے اعتماد سازی کے نمایاں اقدام کے طورپر ایران کے کنٹینر بردار بحری جہاز ایم وی توسکا کے عملے کے 15ارکان کو پاکستان کے راستے ایران منتقل کر دیا گیا ہے ،امریکی حکام کے مطابق پچھلے ہفتے عملے کے 6 افراد کو پہلے ہی واپسی کے لیے خطے کے ایک ملک کے حوالے کیا گیا تھا، توسکاکو امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر امریکی حکام نے تحویل میں لیا تھا،امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کو اب مالک کے حوالے کیاجا رہا ہے ، نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق بحری جہاز کے ایرانی عملے کے 15 ارکان کو پسنی کے مقام پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا جس کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے رمدان سرحدی گزرگاہ کے راستے ایرانی صوبے سیستان بلوچستان پہنچایا گیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے ایرانی بحری جہاز کے عملے کی واپسی کے لیے سہولت فراہم کی ہے ، امریکا کی جانب سے قبضے میں لیے گئے ایرانی کنٹینر جہاز ایم وی توسکا پر موجود عملے کے ارکان کو گزشتہ رات ہوائی جہاز کے ذریعے پاکستان لایا گیا تھا جبکہ ایرانی جہاز کو بھی ضروری مرمت کے بعد اصل مالکان کے حوالے کرنے کے لیے پاکستانی سمندری حدودِ میں لایا جائے گا۔عملے اور جہاز کی واپسی کی یہ کوششیں ایران اور امریکا دونوں ممالک کے تعاون سے مربوط انداز میں کی جا رہی ہیں، بیان کے مطابق پاکستان اس طرح کے اعتماد سازی کے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے جاری ثالثی کی کوششوں کے دوران مذاکرات اور سفار ت کاری میں سہولت کاری کا سلسلہ جاری رکھے گا۔