ون کانسٹی ٹیوشن ایو نیو کے انویسٹرز متعلقہ فورن سے رجوع کر سکتے : ہائیکورٹ : درخواستیں تمٹا دیں

ون کانسٹی ٹیوشن ایو نیو کے انویسٹرز متعلقہ فورن سے رجوع کر سکتے : ہائیکورٹ : درخواستیں تمٹا دیں

درخواست گزار نے سپریم کورٹ کی مالیاتی شرائط کی پاسداری نہیں کی ، کمپنی قسط جمع کرانے میں ناکام رہی لائف لائن موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا،30روزہ نوٹس کی تکنیکی غلطی کا اعتراض مسترد ،50کروڑ کا چیک ناکافی قرار

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ نے بی این پی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے سی ڈی اے کی جانب سے 8 مارچ 2023 کو جاری کردہ لیز منسوخی کا آرڈر قانونی قرار دے دیا۔ چیف جسٹس سردارسرفراز ڈوگر نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں عدالت نے بی این پی لمیٹڈ کی دائر ایگزیکیوشن پٹیشن بھی خارج کرتے ہوئے تیسرے فریق (انویسٹرز) کی درخواستیں نمٹا دیں اور کہا کہ انویسٹرز اپنے حقوق کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتے ہیں، درخواست گزار نے سپریم کورٹ کی مقرر کردہ مالیاتی شرائط کی پاسداری نہیں کی، درخواست گزار کمپنی 2022 کی قسط کے 2.916 ارب روپے جمع کرانے میں ناکام رہی، سی ڈی اے کی جانب سے لیز کی منسوخی سپریم کورٹ کے دیئے گئے۔

حق کے عین مطابق ہے ، پٹیشنر نے سپریم کورٹ کے دیئے گئے لائف لائن موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا، عدالت نے پٹیشنر کی جانب سے 30 روزہ نوٹس کی تکنیکی غلطی کا اعتراض بھی مسترد کر دیااور پٹیشنر کی جانب سے 50 کروڑ روپے کا چیک ناکافی قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے 9 جنوری 2019 کو لیز بحال کرتے ہوئے 8 سال میں 17.5 ارب روپے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، بی این پی لمیٹڈ نے 2021 کی قسط جمع کرائی لیکن 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا، سی ڈی اے نے بار بار یاد دہانیوں کے بعد 7 فروری 2023 کو نوٹس اور پھر 8 مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں