جنگ کے خاتمہ کیلئے سفارتی عمل میں سست روی کا ذمہ دار امریکہ ہے: اسماعیل بقائی

تہران: (دنیا نیوز، ویب ڈیسک) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی عمل میں سست روی کا ذمہ دار امریکہ ہے، امریکہ کو اپنے مطالبات سے دستبرداری میں دشواری کا سامنا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اوپیک سے منفی ردعمل کے تحت کسی رکن کا نکلنا کسی کے مفاد میں نہیں، آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے حوالے سے عمان کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات جاری ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی ایران کے خلاف غلط الزامات دہرا رہے ہیں، امریکہ نے مذاکرات کے دوران براہ راست تخریب کاری اور فوجی جارحیت کی ہے، 2018 میں جوہری معاہدے سے امریکی یکطرفہ انخلا مذاکرات میں امریکی عدم سنجیدگی کی مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بات چیت کے دوران بھی واشنگٹن نے مداخلت اور جارحیت جاری رکھی، امریکہ کا رویہ واضح طور پر سفارت کاری کے خلاف ہے، ایران اس وقت صرف جنگ کے خاتمے پر بات کر رہا ہے، کوئی اور معاملہ زیر بحث نہیں۔

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی حالیہ صورتحال امریکہ کی ایران کے خلاف جارحیت کانتیجہ ہے، امریکی جارحیت سے پہلے آبنائے ہرمز عالمی میری ٹائم نیوی گیشن کے لیے محفوظ گزرگاہ تھی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستیں، شپنگ کمپنیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران سے رابطے کی ضرورت سے آگاہ ہیں، آبنائے ہرمز میں اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت کیے گئے ہیں۔

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز اور بین الاقوامی پانیوں میں بھی سکیورٹی کے فقدان کو جنم دیا ہے، ایران آبنائے ہرمز میں سلامتی اور سکون کا محافظ ہے، عمان اور ایران آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں، آبنائے ہرمز سے محفوظ جہازرانی کے لیے ہمیں پروٹوکول، مکینزم بنانا چاہئے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے آبنائے ہرمز سے امریکی جنگی جہازوں کے داخلے کے امکان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی مسلح افواج امریکی خطروں کا جواب دینا جانتی ہیں، ہم جنگ کے خاتمے کے علاوہ کسی معاملے پر بات نہیں کر رہے۔

یاد رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کے پیش کردہ 14 نکاتی منصوبے کا جواب پہنچا دیا ہے، جس کا اس وقت تہران میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق ایران کا 14 نکاتی منصوبہ مکمل طور پر خطے میں جاری جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے، اور اس کا بنیادی مقصد کشیدگی کم کر کے پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے پر ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کے جوہری مذاکرات جاری نہیں ہیں، تاہم سفارتی سطح پر رابطے مختلف ذرائع سے برقرار ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں