آئندہ بجٹ میں ٹیکس نیٹ توسیع ،استثنیٰ کمی ، سرکاری اخراجات محدود : حکومت آئی ایم ایف میں مشاورت جاری

آئندہ بجٹ میں ٹیکس نیٹ توسیع ،استثنیٰ کمی ، سرکاری اخراجات محدود : حکومت آئی ایم ایف میں مشاورت جاری

ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانااور قرضوں کے بوجھ کو 70فیصد تک لانا ہدف،ٹیکس ہدف ساڑھے 15ہزار ارب مقرر ہوگا رواں مالی سال شرح نمو بہتر رہی ، مہنگائی اور عالمی قیمتوں کے دباؤ کے خدشات برقرار ، آئندہ بجٹ میں سخت اقدامات متوقع

اسلام آباد (مدثر علی رانا) آئندہ مالی سال 2027 کے بجٹ میں سخت مالیاتی اقدامات متوقع ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ پاکستان بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے ، سیلز ٹیکس استثنیٰ میں کمی اور سرکاری اخراجات محدود کرنے پر غور کر رہی ہے ۔ حکومت کا ہدف ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں اضافہ اور قرضوں کے بوجھ کو 70 فیصد تک لانا ہے ۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ہدف تقریباً ساڑھے 15 ہزار ارب روپے مقرر کیا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان آئندہ بجٹ کے اہم اہداف پر مشاورت جاری ہے۔ خطے کی کشیدگی کے باعث مالی دباؤ سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ ضروری قرار دی گئی ہے ۔آئی ایم ایف نے پیشگوئی کی ہے کہ عالمی حالات سازگار رہے اور اصلاحات پر عمل جاری رہا تو درمیانی مدت میں شرح نمو 5.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جس میں سرمایہ کاری اور برآمدات اہم کردار ادا کریں گی۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی توانائی اور خوراک کی قیمتوں کے باعث ہدف سے تجاوز کر سکتی ہے تاہم بنیادی مہنگائی نسبتاً قابو میں ہے۔

دستاویز کے مطابق مالی سال 2026 میں صنعتی شعبے ، آٹو موبائل، تعمیرات اور گارمنٹس میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ بیرونی ترسیلات اور زرمبادلہ خریداری کے باعث ذخائر فروری 2026 تک 16.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تاہم عالمی تیل قیمتوں میں اضافہ معیشت پر دباؤ ڈال سکتا ہے ۔حکومتی اندازے کے مطابق مالی سال 2026 میں شرح نمو 4 سے 4.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ مالی نظم و ضبط کے ذریعے آئندہ برسوں میں اسے مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔مالیاتی پالیسی کے تحت حکومت نے بنیادی سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کا 1.6 فیصد مقرر کیا ہے ، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے نصف میں 4.1 کھرب روپے کا سرپلس حاصل کیا گیا ہے ۔ تاہم ایف بی آر محصولات میں کمی کو دیگر ذرائع سے پورا کیا گیا۔

محصولات میں اضافے کے لیے سخت اقدامات میں واجب الادا ٹیکسز کی وصولی سے 322 ارب روپے اضافی آمدن کی توقع ہے ۔ اس کے ساتھ اخراجات میں کمی، سبسڈیز میں محدودیت اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں عارضی ریلیف مستقل نہیں ہوگا اور مالی دباؤ سے بچنے کے لیے بروقت ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے ۔آئندہ مالی سال 2027 کے بجٹ میں مزید سخت اقدامات کے تحت ٹیکس نیٹ وسیع کرنے ، سیلز ٹیکس استثنیٰ میں کمی اور اخراجات محدود کرنے پر زور دیا جائے گا، جبکہ قرضوں کا بوجھ 70 فیصد تک لانے کا ہدف بھی مقرر ہے ۔ حکومت کے مطابق مالی اصلاحات اور نجی شعبے کے فروغ سے معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں