سیاحت کوفروغ دینے کیلئے بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں:قائمہ کمیٹی
سالانہ 95لاکھ سیاحوں کی آمد، بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی بڑی رکاوٹ :ارکان اداروں سے جامع رپورٹ طلب، خصوصی اجلاس بلایا جائے :چیئرمین کمیٹی
اسلام آباد (سید قیصر شاہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر دلاور خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس کے دوران چترال میں سیاحت کے فروغ اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود، روبینہ قائم خانی، ایمل ولی خان اور سید کاظم علی شاہ نے شرکت کی ، پاکستان ٹورازم ڈیوپلپمنٹ کارپوریشن اور وزارت کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چترال خیبرپختونخوا کا اہم سیاحتی مرکز ہے جہاں شندور پاس، کالاش ویلیز اور چترال گول نیشنل پارک نمایاں مقامات ہیں۔حکام کے مطابق سالانہ تقریباً 95 لاکھ ملکی سیاح چترال کا رخ کرتے ہیں این او سی کی شرط برقرار رہنے کے باوجود غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا جو 2022 میں 1500 سے بڑھ کر 2025 میں 2700 تک پہنچ گئی ہے ، سیاحت کے فروغ کیلئے انفراسٹرکچر بنایا جائے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سیاحت صوبوں کو منتقل کی گئی جبکہ پی ٹی ڈی سی کے موٹلز بھی صوبوں کے حوالے کئے جا چکے ہیں۔خیبرپختونخوا کو مجموعی طور پر 19 سیاحتی املاک منتقل کی گئیں جن میں چترال کے پانچ اہم موٹلز شامل ہیں ،سینیٹر طلحہ محمود نے بنیادی سہولیات کی کمی، خراب سڑکوں، محدود پروازوں، ناقص صحت سہولیات اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ،بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی سیاحت کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے ،مسائل حل کئے بغیر سیاحت کا فروغ ممکن نہیں۔اجلاس میں قومی ہاکی ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کے دوران درپیش مسائل پر بریفنگ موخر کر دی گئی جبکہ نیشنل انٹرن شپ پروگرام کو بحال اور مرکزی سطح پر منظم کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی، چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے چترال کی ترقی پر جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے خصوصی اجلاس بلانے کی ہدایت کردی۔