امریکا ،ایران میں جھڑپیں،جنگ بندی کو دھچکا:اسرائیل ،لبنان کے درمیان سیز فائر بھی خطرے میں

امریکا ،ایران میں جھڑپیں،جنگ بندی کو دھچکا:اسرائیل ،لبنان کے درمیان سیز فائر بھی خطرے میں

امریکا کا 2ایرانی جہازوں پر حملہ،ایران کا آئل ٹینکر پر قبضہ،امارات پر حملہ،3زخمی ،امریکا کو اڈے استعمال کرنے نہیں دئیے :سعودیہ،جنگ بندی برقرار:ٹرمپ شیر کے نوکیلے دانت دیکھ کر یہ مت سمجھنا شیر مسکرا رہا، ہرمز میں سٹریٹجک پوزیشن ایٹم بم جتنی قیمتی ،دستبردار نہیں ہونگے :ایران ، حزب اللہ کا اسرائیلی فوجی اڈے پر حملہ

تہران ، واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے ایک جنگی طیارے نے جمعہ کے روز ایرانی پرچم بردار دو آئل ٹینکروں کو ناکارہ بنا دیا تاکہ بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے ۔ اس کارروائی کے بعد جوابی حملے شروع ہوگئے اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کیلئے واشنگٹن کی تازہ تجویز پر غور کرنے والے تہران اور واشنگٹن کے درمیان قائم نازک جنگ بندی ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی۔ادھر لبنان میں جاری متوازی جنگ بندی بھی دباؤ کا شکار دکھائی دی، جہاں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے بیروت پر اسرائیلی حملے کے جواب میں اسرائیل کے ایک فوجی اڈے پر میزائل داغے ۔ اس اسرائیلی حملے میں حزب اللہ  کا ایک سینئر کمانڈر ہلاک ہوگیا تھا جبکہ جنوبی لبنان میں بھی متعدد حملے کیے گئے تھے ۔امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق جمعہ کے روز خلیجِ عمان میں، جو آبنائے ہرمز کا اہم داخلی راستہ ہے ، ایک ایف/اے ۔18 سپر ہارنیٹ طیارے نے دو جہازوں کو ایران پہنچنے سے روکنے کے لیے نشانہ بنایا،ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ایرانی بحریہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور امریکی دہشت گردی کے جواب میں کارروائی کی۔ ان کے بقول فائرنگ کے تبادلے کے بعد جھڑپیں اب ختم ہوچکی ہیں۔یہ تازہ کشیدگی آبنائے ہرمز میں رات گئے پیش آنے والے ایک اور تصادم کے بعد سامنے آئی، جسے ایران کے سپریم لیڈر کے ایک مشیر نے ’’ایٹم بم جتنی اہم طاقت‘‘ قرار دیا۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کے روز ایک بار پھر کہا کہ تہران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول ناقابلِ قبول ہے ۔ روم کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو دن کے اختتام تک ایران کے جواب کی توقع ہے ۔

انہوں نے کہامجھے امید ہے کہ یہ ایک سنجیدہ پیشکش ہوگی۔امریکانے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایران کو ایک تجویز بھجوائی ہے جس میں خلیج میں جنگ بندی میں توسیع کی بات کی گئی ہے تاکہ دس ہفتے قبل امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والے تنازع کے مستقل حل کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس تجویز پر اب بھی غور جاری ہے اور حتمی فیصلہ ہونے کے بعد اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کی سائٹ ایکس پرعربی محاورہ شیئر کیا جس کا ترجمہ ہے شیر کے نوکیلے دانت دیکھ کر یہ مت سمجھنا کہ شیر مسکرا رہا ہے ،یعنی ایران نے بالواسطہ طور پر امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ہمارے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے ۔امریکی سنٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین امریکی جنگی جہازوں پر میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملے کیے ، تاہم کوئی جہاز نشانہ نہیں بنا۔ امریکی افواج نے اس کے جواب میں ایران کے زمینی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔دوسری جانب ایران کی مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیائہیڈ کوارٹرز نے مؤقف اختیار کیا کہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب امریکی بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کی جانب جانے والے ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا،انہوں نے امریکا پر شہری علاقوں پر حملوں کا بھی الزام عائد کیا۔ایرانی خبر ایجنسی مہر کے مطابق جمعرات کی شب آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحریہ کے حملے میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کے عملے کا ایک رکن شہید ، 10 زخمی جبکہ 4 لاپتا ہو گئے ۔

ایک علیحدہ واقعے میں ایرانی افواج نے خلیج عمان میں آبنائے ہرمز کے مشرق میں اوشن کوئی نامی ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے اس پر ایرانی تیل کی برآمدات میں خلل ڈالنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔بیان میں کہا گیا کہ بارباڈوس کے پرچم بردار ٹینکر جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے ، میں ایرانی تیل موجود تھا اور وہ علاقائی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر تیل کی برآمدات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔واشنگٹن میں جمعرات کے روز جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا جھڑپوں کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے ، تو انہوں نے جواب دیاہاں، جنگ بندی برقرار ہے ۔ انہوں نے آج ہمیں آزمانے کی کوشش کی، لیکن ہم نے انہیں سخت جواب دیا۔ایران نے خطے میں امریکا کے اتحادی ممالک پر بھی حملوں میں تعاون کا الزام عائد کیا، اگرچہ کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا۔ تاہم متحدہ عرب امارات نے تصدیق کی کہ اسے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی ایک لہر کو روکنا پڑا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے ۔جمعہ کے روز سعودی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب نے امریکا کو اپنی فضائی حدود اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا، کیونکہ ریاض کا خیال تھا کہ اس سے صورتحال مزید بگڑ جائے گی اور مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ نے طویل عرصے تک آبنائے ہرمز میں اپنی سٹریٹجک پوزیشن کو نظر انداز کیے رکھا، حالانکہ یہ ‘‘ایٹم بم جتنی قیمتی طاقت’’ ہے ۔انہوں نے کہاعالمی معیشت کو ایک فیصلے سے متاثر کرنے کی صلاحیت ایک غیرمعمولی موقع ہے ، اور ہم اس سے دستبردار نہیں ہوں گے ۔شپنگ انڈسٹری کے معروف جریدے ‘‘لائیڈز لسٹ’’ کے مطابق تہران نے اس ہفتے خلیج فارس سٹریٹ اتھارٹی کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی منظوری اور ان سے ٹول وصول کرنے کا اختیار رکھے گا۔دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ نے اعلان کیا کہ اس نے اسرائیل کے ایک فوجی اڈے پر میزائل حملے کیے ہیں۔

تنظیم کے مطابق یہ کارروائی بیروت کے جنوبی مضافات اور جنوبی لبنان کے دیہات و شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی۔اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی اسرائیل کے متعدد شہروں میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے ، جبکہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر کئی حملوں کا دعویٰ بھی کیا۔اسرائیل جنگ بندی کے باوجود ایران نواز حزب اللہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں