ایف آئی اے :بحری دستاویزات کی جعلسازی کی بڑی کوشش ناکام

ایف آئی اے :بحری دستاویزات کی جعلسازی کی بڑی کوشش ناکام

1,352 سے زائد کنٹینرز سے لدے جہاز سی وی البرٹ پی پر 20 لاکھ روپے جرمانہ جعلی سی مین بکس پر سفر کرنیوالے عملے کے 4 ارکان ’’ناقابلِ امیگریشن‘‘ قرار دیدئیے

کراچی (سٹاف رپورٹر) ایف آئی اے سی پورٹ کراچی نے بحری دستاویزات کی جعل سازی کی بڑی کوشش ناکام بنا دی،1,352 سے زائد کنٹینرز سے لدے بحری جہاز سی وی البرٹ پی پر 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد، جعلی سی مین بکس پر سفر کرنے والے عملے کے  4 ارکان ’’ناقابلِ امیگریشن‘‘ قرار دیدئیے ۔تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی سطح پر جعلی بحری دستاویزات کے استعمال کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی اے امیگریشن و انسداد انسانی اسمگلنگ ونگ، چیک پوسٹ سی پورٹ کراچی نے مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے چلنے والے کنٹینر جہاز سی وی البرٹ پی پر سوار جعلی سی مین بکس کے حامل عملے کے چار ارکان کی نشاندہی کر کے جہاز پر 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ مذکورہ جہاز عمان کی بندرگاہ صلالہ سے 1,352 کنٹینرز پر مشتمل بھاری درآمدی و ٹرانزٹ کارگو لے کر کراچی پہنچا اور برتھ ایس اے پی ٹی-03، کیماڑی سی پورٹ پر لنگر انداز ہوا تھا، جسے 529 کنٹینرز کے تخلیے اور 204 کنٹینرز کی لوڈنگ کے بعد پورٹ محمد بن قاسم روانہ ہونا تھا۔

26 رکنی عملے کی امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایف آئی اے ٹیم نے چار ٹیکنیشنز سبہانو ریچی جوریڈیکو اور سابطن جیورج ایان گومز (فلپائنی ) اور حسین شہیر اور علی فرقان (پاکستانی) کو بیلیز اور بہاماس کی جانب سے جاری کردہ جعلی سی مین بکس کے ساتھ پکڑ لیا۔ مذکورہ افراد میں سے کسی کے پاس بھی نہ تو فلیگ اسٹیٹ اور نہ ہی قومی سی مین بک موجود تھی اور نہ ہی وہ بین الاقوامی بحری معاہدوں کے تحت لازمی معاون دستاویزات پیش کر سکے ۔ پوچھ گچھ کے دوران جہاز کے کپتان اور چاروں عملے کے ارکان نے اعتراف کیا کہ مذکورہ جعلی دستاویزات انہیں دبئی میں مقیم ایک شپنگ ایجنٹ کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں، جس سے جعلی بحری دستاویزات کے اجرا اور ترسیل میں ملوث ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک کی نشاندہی ہوئی۔

فی کس 5 لاکھ روپے کے حساب سے کل 20 لاکھ روپے جرمانہ جہاز کے مقامی ہینڈلنگ ایجنٹ، میسرز جی اے سی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے فارنرز آرڈر 1951ء کی شق 6 کی ذیلی شق (3) کے تحت عائد کیا گیا۔ علاوہ ازیں جہاز کے کپتان اور متعلقہ عملے کے خلاف فارنرز ایکٹ 1946ء کی دفعہ 3(2)، 13 اور 14 کے تحت قانونی کارروائی کے لیے شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا گیا۔یہ کارروائی مئی 2026ء کے دوران ایف آئی اے سی پورٹ کراچی کی اپنی نوعیت کی تیسری بڑی کامیابی ہے ، جس کے ذریعے جعلی بحری دستاویزات پر سفر کرنے والے 4 غیر ملکی و مقامی عملے کے ارکان کی امیگریشن کلیئرنس کامیابی سے روک دی گئی۔ یہ ایف آئی اے کے پختہ عزم اور پاکستانی بندرگاہوں پر امیگریشن قوانین کے سختی سے نفاذ کے سلسلے میں زیرو ٹالرینس پالیسی کی واضح عکاسی کرتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں