ماربل فیکٹری سے ماحولیاتی و دیگر آلودگی ہو رہی:اسلام آباد ہائیکورٹ

ماربل فیکٹری سے ماحولیاتی و دیگر آلودگی ہو رہی:اسلام آباد ہائیکورٹ

بغیر این او سی لیے کیسے کام کر رہے ؟ سی ڈی اے کیا کر رہی ہے :جسٹس اعظم خان

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے رہائشی علاقوں میں ماربل فیکٹری کی منتقلی اور کارروائی کرنے کے انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر شکایت کنندہ  کے وکیل سے آئندہ سماعت پر تفصیلی دلائل طلب کر لیے ۔ وکیل شکایت کنندہ نے کہا بغیر این او سی فیکٹریاں کام کر رہی ہیں۔ جسٹس اعظم خان نے کہا بغیر این او سی لیے کیسے کام کر رہے ہیں؟ سی ڈی اے کیا کر رہی ہے ؟ ماربل فیکٹری سے ماحولیاتی اور دیگر آلودگی ہو رہی ہے ۔ وکیل سی ڈی اے نے کہا ایسا نہیں ہے ، ماحولیاتی آلودگی کیلئے متعلقہ محکمے کام کر رہے ۔ عدالت کے حکم کے باوجود مزید فیکٹریاں قائم ہو گئیں۔

عدالتی حکم پر عملدرآمد کیلئے ڈی جی انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کو سی ڈی اے نے مراسلہ لکھ دیا ہے ۔ وکیلِ نے کہا بغیر ثبوت درخواست پر فیصلہ کیا گیا، شہری کی درخواست پر سول درخواست دائر ہوتی ہے ، کرمنل نہیں۔ جسٹس اعظم خان نے کہا، کیا یہ فیکٹری designated جگہ پر ہے ؟ وکیلِ درخواست گزار نے کہا جب فیکٹری لگی تب یہ رہائشی علاقہ نہیں تھا، سی ڈی اے نے ماربل فیکٹریز کیلئے کوئی جگہ مختص نہیں کی۔ جسٹس اعظم خان نے کہا آپ نے ٹریبونل میں کیا ثبوت دیئے ؟ اس سے متعلق آئندہ سماعت میں تفصیلی دلائل دیں۔بعدازاں سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں