تنازعات کے فوری مؤثر حل کیلئے متبادل نظام عدل و قت کی اہم ضرورت : جسٹس گل حسناورنگزیب

 تنازعات کے فوری مؤثر حل کیلئے متبادل نظام عدل و قت کی اہم ضرورت : جسٹس گل حسناورنگزیب

غریب سائلین کیلئے جدید و مفت ثالثی مرکز قائم کیا جا رہا، 18لاکھ 20ہزار زیر التوا مقدمات ججز تعداد کے مطابق بڑا چیلنج ترکیہ کے متبادل نظامِ عدل سے 90لاکھ کیسز حل، ہمیں بھی اسی طرز پر نظام اپنانا ہوگا:پیس میکرز کمیونٹی تقریب سے خطاب

اسلام آباد(اے پی پی)سپریم کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاہے پاکستان میں عدالتی مقدمات کا بڑھتا بوجھ کم کرنے اور تنازعات کے فوری و موثر حل کیلئے متبادل نظامِ عدل (اے ڈی آر)اور ثالثی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے ، اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں ایک جدید اور مفت میڈیشن سینٹر قائم کیا جا رہا ہے تاکہ سائلین کو انصاف کی سہولت سہل انداز میں میسر آسکے ۔  اے ڈی آر او ڈی آر انٹرنیشنل لمیٹڈ اور انٹرنیشنل سینٹر فار ڈسپیوٹ ریزولوشن لاہور (ICDRL)پیس میکرز کمیونٹی (اے آئی پی سی) کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا اس وقت سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس سمیت ملک بھر کی عدالتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 18 لاکھ 20 ہزار مقدمات زیرِ التوا ہیں جو ججوں کی موجودہ تعداد کے لحاظ سے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

ترکیہ میں متبادل نظامِ عدل کے ذریعے 90 لاکھ سے زائد کیسز حل کیے جا چکے ، پاکستان کو بھی اسی طرز پر جدید نظام اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا میڈیشن سینٹر میں غریب سائلین کیلئے ثالثی سہولت بالکل مفت ہوگی، سال کے آخر تک تربیت یافتہ ثالثوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا۔ اے ڈی آر او ڈی آر انٹرنیشنل پاکستان۔ آئی سی ڈی آر ایل کی بانی و سی ای او سارہ تارڑ نے کہا متبادل تنازعاتی حل کا نظام نہ صرف عدالتی بوجھ کم کرنے میں مددگار ہوگا بلکہ عام شہریوں کو فوری، کم خرچ اور موثر انصاف کی فراہمی یقینی بنائے گا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن اور وفاقی سیکرٹری قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر نے بھی خطاب کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں