بلوچستان کی ترقی و خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے :وزیر اعظم
قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیلئے بہترین آلات، جدید ٹیکنالوجی یقینی بنائی جائے کھاد کی مصنوعی قلت پرسخت کارروائی ،شہبازشریف کو آذربائیجان کے صدر کا فون
اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ،وہ امن و امان کی صورتحال اور وزارت داخلہ کے امور پر اہم اجلاس کی صدارت کررہے تھے ،وزیر اعظم نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کرپشن پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے ،ایف آئی اے سمیت وزارت داخلہ کے ماتحت تمام اداروں میں بھرتیاں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنائی جائیں،انہوں نے کہا کہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہترین آلات، جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ سازوسامان کی فراہمی یقینی بنا ئی جائے ،وزیر داخلہ نے اجلاس کو ایف آئی اے ، اسلام آباد پولیس،نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ، فیڈرل کانسٹیبلری ، سی ڈی اے اور وزارت داخلہ کے ماتحت دیگر اداروں کی کارکردگی اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال ستمبر میں اسلام آباد میں زیر تعمیر جیل فعال ہو جائے گی ، ادھروزیراعظم سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاستدانوں کے وفد نے ملاقات کی، وفد میں سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی، بلوچستان کے صوبائی وزیر سردار عبد الرحمان کھیتران، بلوچستان اسمبلی کے رکن سردار چنگیز مری اور میر خدا بخش مری شامل تھے ،وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی اور صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے ، ملک میں غذائی تحفظ اور کھاد کی ذخائر کی صورتحال پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کھاد کی مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے ،غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے زرعی شعبے کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ،وزیراعظم نے کسانوں کو بروقت کھاد کی فراہمی ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک سے کھاد کی سپلائی چین متاثر ہونے کے پیش نظر وسطی ایشیائی ممالک سے کھاد کی متبادل فراہمی کی منصوبہ بندی کی جائے ،سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اسلام آباد سمیت ملک بھر میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا جدید اور پائیدار نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ سالڈ ویسٹ سے بجلی پیدا کرنے کیلئے جامع روڈ میپ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علییوف کے درمیان ٹیلی فون پر نہایت گرمجوشی اور خیرسگالی پر مبنی گفتگو ہوئی، جس کے دوران باہمی تہنیتی پیغامات کا تبادلہ کیا گیا،پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات اور دوستی کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا،وزیراعظم نے صدر علییوف کو آئندہ ہفتے باکو میں ہونے والے ورلڈ اربن فورم کے کامیاب انعقاد کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، وزیراعظم نے ناگزیر سرکاری مصروفیات کے باعث ذاتی طور پر فورم میں شرکت کرنے سے معذرت کی، تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فورم میں اعلیٰ سطحی نمائندگی ہوگی ،علاوہ ازیں وزیر اعظم نے کوہاٹ کے قریب اپنی جان قربان کرکے خودکش حملہ ناکام بنانے والے بہادر شہری لیاقت کوخراج تحسین پیش کیا ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ شہید لیاقت کی لازوال قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔