انتخابی سیاست میں تاحال 26 سے 45سال کے ووٹرز کافیصلہ کن کردار
اسلام آباد(وقار علی سید)ملک بھر میں مجموعی طور پر ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 65 لاکھ 66 ہزار سے زائد ہے ، ووٹر فہرستوں میں روزانہ اوسطاً 14 ہزار 434 نئے ووٹرز شامل ہو رہے ہیں۔
ملک بھر میں مرد ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہے ، مجموعی طور پر مرد ووٹرز کی تعداد 53 فیصد سے زائد جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 46 فیصد سے زائد ہے ، اس وقت پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ایک بحث چل رہی ہے کہ 18 سال سے 25 سال کے جوانوں کو ووٹ کا حق نہ دیا جائے ، وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ خان نے ایسی تجویز کی تردید بھی کی تاہم اگر ایسی ترمیم ہو بھی جائے تو اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟ اگر 18 سے 25 سال عمر کی حد کے لوگوں کو ووٹنگ کے عمل سے محروم کیا جاتا ہے تو باقی جو ووٹرز بچیں گے ان میں نوجوان کتنے ہوں گے اور بزرگ کتنے ہوں گے ؟ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈیڑھ سال پرانے ایج وائز ڈیٹا کے مطابق جب کل ووٹرز کی تعداد تقریباً 13 کروڑ 1 لاکھ تھی (اب 65 لاکھ زیادہ ہیں)، اس میں 18 سے 45 سال کی عمر کے نوجوان ووٹرز مجموعی طور پر تقریباً 8 کروڑ 70 لاکھ بنتے ہیں جو کل ووٹ بینک کا تقریباً 67 فیصد ہے۔
اس میں اگر 18 سے 25 سال کے ووٹرز تقریباً 2 کروڑ 47 لاکھ تھے ، تاہم ذرائع کے مطابق اب یہ اعداد و شمار 3 کروڑ سے تجاوز کر چکے ہیں کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً تقریباً 14 ہزار سے زائد نئے ووٹرز کا اندراج ہو رہا ہے ، نومبر 2024ء کے اعداد و شمار اور روزانہ اندراج کے اعداد و شمار کے مطابق تین کروڑ ووٹرز کو نکال دیا جائے تو مجموعی طور پر تقریباً 10 کروڑ 65 لاکھ ووٹرز باقی رہ جاتے ہیں جن میں سے 26 سے 45 سال کے ووٹرز کی تعداد تقریباً 6 کروڑ 23 لاکھ سے زائد بنتی ہے جو باقی بچنے والے ووٹرز کا 60 فیصد سے زائد ہیں جبکہ 46 سال سے زائد عمر کے ووٹرز تقریباً 4 کروڑ 42 لاکھ سے زائد ہیں جو تقریباً 40 فیصد سے کم بنتے ہیں یعنی 18 سے 25 سال کے ووٹرز کو نکالنے کے بعد بھی اکثریت واضح طور پر 26 سے 45 سال کے نوجوان اور درمیانی عمر کے ووٹرز کے پاس ہی رہتی ہے ، جن کا انتخابی سیاست میں فیصلہ کن کردار ہوگا، الیکشن کمیشن نے ویب سائٹ پر تاحال ایج بریکٹ وائز نئے اعداد و شمار گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری نہیں کیے ۔