گزشتہ سال رینسم ویئرحملوں نے ایشیا پیسیفک میں تباہی مچا ئی
اسلام آباد(نامہ نگار)سائبر سکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کے مطابق 2025 کے دوران ایشیا پیسیفک خطہ دنیا کے اُن علاقوں میں شامل رہا جہاں رینسم ویئر حملوں نے سب سے زیادہ تباہی مچائی۔
رپورٹ کے مطابق لاطینی امریکا کے بعد ایشیا پیسیفک میں سب سے زیادہ ادارے سائبر حملوں کا شکار بنے ۔ 2025 میں ایشیا پیسیفک خطہ 7.89 فیصد، افریقہ 7.62 فیصد، مشرقِ وسطیٰ 7.27 فیصد، سی آئی ایس ممالک 5.91 فیصد اور یورپ میں 3.82 فیصد سائبر حملے کیے گئے ، حملہ آور اب صرف کمپیوٹر سسٹمز لاک کرنے کے بجائے حساس ڈیٹا چرا کر اسے لیک کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ’’ کلرز ای ڈی آر ‘‘ نامی خطرناک ٹولز کا استعمال بڑھ گیا ہے ، یہ ٹولز سکیورٹی سسٹمز کو غیر فعال کرکے رینسم ویئر کو کامیابی سے حملہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں’’جینٹلمین نامی نیا گروپ عالمی سطح پر ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے ۔ کیسپرسکی کے لیڈ سکیورٹی ریسرچر فیبیو ایسولینی نے کہا ادارے کیسپرسکی نیکسٹ کے ذریعے اینٹی رینسم ویئر ٹولز استعمال کریں ۔