قربانی کے جانور مہنگے ،مویشی منڈیوں میں ہجوم ،خریدار خالی ہاتھ لوٹنے لگے
بکرا ایک لاکھ سے اوپر، دنبہ ایک تا 3، گائے 2، بیل کے دام 2 تا 10 لاکھ مانگے جا رہے ، شہری مایوس ہوگئے مہنگا ئی کے باعث قربانی کی امیدیں دم توڑنے لگیں،منڈیوں میں ناقص سکیورٹی انتظامات پر خریداروں کے تحفظات
اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے )عید قربان میں چاردن باقی رہنے کے باعث مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی خرید وفروخت کے سلسلے میں رش تو دکھائی دینے لگاہے مگر آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں نے جانورخریدنے کے لئے آنے والوں کو خالی ہاتھ واپس جانے پر مجبور کردیا ہے ، شہری ایک سے دوسری منڈی جاکر جانور دیکھنے لگے ہیں ، دن کو شدید گرمی کی وجہ سے مویشی منڈیوں میں رات کورش ہوجاتا ہے ، پنجاب کے مختلف اضلاع سمیت خیبر پختونخوا اور کشمیر سے بھی جانور لائے جانے کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا۔بکرا ایک لاکھ سے کم تو بتایا ہی نہیں جارہا ، بحث ومباحثہ کے بعد پانچ ، دس ہزارکم کیے جا تے ہیں ،اسی طرح دنبہ بھی ایک سے تین لاکھ کا جبکہ دیسی بکرے دو لاکھ تک پہنچ گئے ۔ وہڑی ( گائے ) دو لاکھ تک اور بیل کے دام تین لاکھ سے لے کر دس لاکھ تک بتائے جا رہے ہیں ۔ شہری جانوروں کی آسمان سے کرتی ہوئی قیمتوں کیوجہ سے پریشان ئی دیتے ہیں اور تاحال خریداری سے گریز کر رہے ہیں ۔
مہنگائی کے طوفان کی وجہ سے قربانی کرنے کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں ،گز ستہ سال کے مقابلے میں بکروں ،دنبوں اور بڑے جانوروں کی قیمتیں کم وبیش 50 فیصد زیادہ بتائی جارہی ہیں جبکہ اجتماعی قربانی میں فی کس حصہ 32ہزار سے لے کر40ہزار تک ہے ۔ خریداروں کا کہنا ہے کہ عام آدمی کیلئے قربانی کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جبکہ بیوپاری اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔مویشی مالکان اور بیوپاریوں کا مؤقف ہے کہ چارے کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ، ٹرانسپورٹ اخراجات اور دیگر اضافی چارجز کے باعث انہیں بھی مشکلات کا سامنا ہے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ مویشی منڈیوں میں سکیورٹی کے مؤثر انتظامات دکھائی نہیں دیتے ، رات کے اوقات میں مشکوک افراد کی نقل و حرکت، پارکنگ مسائل اور پولیس گشت کی کمی کے باعث خوف و ہراس کی فضا پا ئی جا رہی ہے ۔