پاکستان سمیت مسلم ممالک معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کریں : ٹرمپ

 پاکستان سمیت مسلم ممالک معاہدہ  ابراہیمی پر دستخط کریں : ٹرمپ

اسرائیل کیساتھ تعلقات معمول پر لا ئیں ،یہ ایران کیساتھ امن معاہدے کا حصہ ہونا چاہیے ،معاہدہ یا تو بہت بڑا ،معنی خیز ہوگا یا نہیں ہوگا،سعودیہ ،قطر عمل شروع کریں،شامل نہ ہونا غلط نیت کی علامت:امریکی صدر جنگ کے خاتمے کیلئے کسی معاہدے کے قریب نہیں:ایران، آبنائے ہرمز ،انتہائی افزودہ یورینیم اور منجمد فنڈز پر قطری وزیراعظم کیساتھ بات چیت کیلئے قالیباف، عراقچی اور صدر ایرانی مرکزی بینک دوحہ پہنچ گئے

واشنگٹن (اے ایف پی، رائٹرز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز مشرقِ وسطٰی اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں، اور معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کر یں ، یہ اقدام ایران کے ساتھ امن معاہدے کا حصہ ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کے خاتمے کیلئے معاہدے پر پیش رفت سست ہو گئی ہے کیونکہ دونوں فریقوں نے کسی بھی جلد معاہدے کے امکان کو کم کر کے پیش کیا ہے ۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کے قریب نہیں، جبکہ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ انہیں جلد بازی نہیں ہے ۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ قطر، پاکستان، مصر، ترکی اور اردن سمیت کئی ممالک کو ابراہیمی معاہدے میں لازمی شامل ہونا چاہیے ۔انہوں نے لکھا کہ امریکا کی تمام کوششوں کے بعد جو اس نہایت پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کیلئے کی گئی ہیں، کم از کم یہ ضروری ہونا چاہیے کہ یہ تمام ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ہفتے کے روز ان ممالک کے رہنماؤں سے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوششوں پر بات کی ہے ۔متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان پہلے ہی ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں۔ امریکی اور ایرانی افواج نے 8 اپریل سے جنگ بندی کر رکھی ہے۔

ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہت بڑا اور معنی خیز ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ دوسری جانب ابراہیمی معاہدے کو بعض حلقوں نے امریکی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دیا تھا، تاہم مشرقِ وسطٰی کے کئی حصوں میں یہ عوامی سطح پر غیرمقبول ہے کیونکہ یہ فلسطین اسرائیل تنازع کو حل نہیں کرتا۔ ابراہیمی معاہدہ 2020 میں ٹرمپ کی نگرانی میں طے پایا تھا اور یہ ان کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ معاہدہ اسرائیل اور ان ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق ہے جو تاریخی طور پر اسرائیل کے مخالف رہے ہیں۔یہ معاملہ اس لئے بھی حساس ہے کہ سعودی عرب اور قطر جیسے اہم خلیجی ممالک پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اس وقت تک اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہیں لائیں گے جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ممکن ہے ایک یا دو ممالک کے پاس معاہدے میں شامل نہ ہونے کی وجوہات ہوں، لیکن زیادہ تر ممالک کو اس عمل کا حصہ بننے کیلئے تیار، آمادہ اور قابل ہونا چاہیے ۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل سعودی عرب اور قطر کے فوری دستخط سے شروع ہونا چاہیے ، اور جو ممالک اس میں شامل نہ ہوں انہیں اس معاہدے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ غلط نیت کی علامت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے یہ اشارہ نہیں دیا کہ کسی معاہدے کا اعلان قریب ہے۔ دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف، عباس عراقچی اور ایرانی مرکزی بینک کے صدر قطر کے وزیرِ اعظم کے ساتھ ممکنہ امریکی معاہدے پر بات چیت کیلئے دوحہ پہنچے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ بات چیت میں آبنائے ہرمز اور انتہائی افزودہ یورینیم سے متعلق معاملات شامل ہوں گے ، جبکہ منجمد فنڈز کے مسئلے پر بات ہوگی جس کیلئے مرکزی بینک کے گورنر کو بھی وفد میں شامل کیا گیا ہے ۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے ، لیکن وہ امریکا کے ساتھ مشرقِ وسطٰی کی جنگ کے خاتمے کیلئے کسی معاہدے کے قریب نہیں پہنچا۔امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا ایک مضبوط فریم ورک موجود ہے ، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے ۔ایک امریکی اہلکار نے کہا میرے خیال میں ایک کافی مضبوط چیز میز پر موجود ہے جس کا تعلق آبنائے کو کھولنے اور بحری راستے بحال کرنے سے ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم یا تو ایک اچھا معاہدہ کریں گے یا پھر ہمیں کسی اور طریقے سے صورتحال سے نمٹنا ہوگا، لیکن ہماری ترجیح ایک اچھا معاہدہ ہے ۔دوسری جانب تہران نے فوری معاہدے کی امیدوں کو رد کر دیا ہے ۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ یہ کہنا درست ہے کہ ہم زیرِ بحث زیادہ تر مسائل پر کسی نتیجے تک پہنچ گئے ہیں، لیکن یہ کہنا کہ معاہدے پر دستخط قریب ہیں ، ایسا کوئی بھی دعویٰ نہیں کر سکتا۔انہوں نے مزید واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو سروس فیس کے ذریعے منظم کرتا رہے گا، اور اس کو ٹول وصولی نہیں سمجھا جانا چاہیے ۔ اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا کہ ان کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں