بچے کا نان نفقہ باپ کا مستقل فریضہ ، معاہدے سے ختم نہیں ہو سکتا : لاہور ہائیکورٹ
خاندان کے بڑوں نے 60ہزار روپے ادائیگی کا معاہدہ کروایا،خاتون نے بچے کے نان نفقہ کا دعویٰ دائر کردیا غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ، مالی تنگی بھی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی :تحریری فیصلہ جاری
لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقہ کا حق کسی معاہدے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا، عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ۔ سنگل بینچ کے اختر حسین کی درخواست پر 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلے میں کہا گیا طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں کی مداخلت سے فریقین کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کے تحت باپ نے بچے کے نان نفقہ کے طور پر 60 ہزار روپے ادا کرنے تھے ۔درخواست گزار کے مطابق خاتون نے 2019 میں بچے کے نان نفقہ کا دعویٰ دائر کیا معاہدے کے باعث یہ دعویٰ غیر قانونی ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے جسے کسی نجی معاہدے یا راضی نامے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ باپ کی مالی تنگی بھی اس ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی، غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتا۔