چاچا کرکٹ کی پاکستان سے محبت،ورلڈ کپ کیلئے مکان بیچ دیا
54 برسوں میں 77 سالہ چاچا کرکٹ نے 500 میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی
لاہور(سپورٹس ڈیسک)چا چا کرکٹ کی کہانی کی ابتدا 21 فروری 1969 کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ہوئی۔ یہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کا پہلا دن تھا۔ ہجوم میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا 20 سالہ نوجوان عبدالجلیل بھی شامل تھا، اس کے ہاتھ میں پاکستانی پرچم اور لبوں پر ‘پاکستان زندہ باد’ کے نعرے تھے ، یہ نوجوان صوفی عبدالجلیل آگے چل کر ‘چاچا کرکٹ’ کے نام سے مشہور ہوئے ۔ انڈیا کے خلاف 18 اپریل سنہ 1986 میں ایشیا کپ کے فائنل میں چیتن شرما کی آخری گیند پر جاوید میانداد کے چھکے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔چاچا کرکٹ بتاتے ہیں کہ اس روز بھی وہ پویلین میں موجود تھے ۔کرکٹ بورڈ نے ابتدا میں معاونت کی جس کی وجہ سے وہ ملکی اور غیر ملکی سٹیڈیمز میں پاکستان کی شان بڑھاتے نظر آئے ، البتہ سنہ 1999 کے ورلڈ کپ کیلئے انھیں کسی بھی جانب سے سپانسر شپ نہیں ملی۔ ایسے میں مجبوراً ذاتی مکان 15 لاکھ روپے میں فروخت کرنا پڑا۔چاچا کرکٹ نے کئی بار ٹیم کے ساتھ انڈیا کا دورہ کیا اور بھرپور پیار سمیٹا۔ گزشتہ 54 برسوں میں 77 سالہ چاچا کرکٹ نے بطور چِیئر لیڈر 500 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ۔ چاچا کرکٹ کی ریٹائرمنٹ 4 جون 2026 کو آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والے میچ کے بعد طے ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ‘اپنی زندگی کے اس آخری میچ کو یادگار بنانے کیلئے میری خواہش ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ تمام سابقہ کھلاڑیوں کو ایک اعزازی عشائیے پر مدعو کرے ۔ میں اس تقریب میں بورڈ اور کرکٹرز کے ساتھ ساتھ میڈیا، کرکٹ سے جڑے احباب اور اپنے دوستوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنھوں نے میرے مشن کی ساری عمر حمایت کی۔