گلگت بلتستان میں جلسہ :نواز شریف عملی سیاست سے لاتعلق نہیں

 گلگت بلتستان میں جلسہ :نواز شریف عملی سیاست سے لاتعلق نہیں

اسٹیبلشمنٹ کو تو چیلنج کیا لیکن اپنی سیاسی و عوامی مقبولیت پر کبھی آنچ نہ آنے دی

(تجزیہ: سلمان غنی)

گلگت بلتستان کے انتخابی محاذ پر مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی موجودگی اور یہاں اپنے کارکنوں کے اجتماع سے خطاب یہ ظاہر کر رہا ہے کہ انہوں نے خود کو پاکستان کی عملی سیاست سے لاتعلق نہیں کیا وہ متحرک سیاسی کردار ادا کر سکتے ہیں اور خود ان کی جماعت ان کی سیاسی و انتخابی محاذ پر ضرورت محسوس کرتی ہے لہٰذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا سیاسی محاذ پر کردار خود اپنی جماعت کی مقبولیت کو متاثر کر سکتا ہے ان کی سیاسی سرگرمیوں کو نئی پذیرائی مل سکے گی جہاں تک مسلم لیگ ن کی  سیاست اور کردار میں نواز شریف کی اہمیت کا سوال ہے تو اس جماعت کا نام ہی نواز شریف سے مشروط ہے مسلم لیگ ن میں نواز شریف کے نام کا ہی حصہ ہے اور ا س امر میں دو آرا نہیں کہ مسلم لیگ ن نے اپنے جماعتی کردار کو کسی نظریاتی کردار سے منسلک کرنے کی بجائے کارکردگی سے مشروط رکھا ہے اور نواز شریف کے ادوار سیاست اس امر کے گواہ ہیں کہ انہوں نے اپنے سیاسی کردار کو اجاگر کرنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کو تو چیلنج کیا لیکن اپنی سیاسی و عوامی مقبولیت پر کبھی آنچ نہ آنے دی یہی وجہ ہے کہ انتخابی عمل سے باہر رکھنے والے انہیں عوام کے دلوں سے نہ نکال سکے نواز شریف کو اقتدار سے بھی باہر کیا جاتا رہا اور جلاوطنی پر بھی مجبور کیا گیا لیکن نواز شریف وہ سیاسی حقیقت تھے کہ جن کی سیاست پر کوئی بھی اثر انداز نہ ہو سکا لیکن آج کا نواز شریف اور آج کی ن لیگ کی سیاست ماضی سے مختلف ہے اور اپنی حکومتیں قائم ہونے کے باوجود عوام کے مسائل میں بے بہا اضافہ ہوا ہے۔

مہنگائی بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے انہوں نے سیاسی بیانات دینے یا مخالفین پر تنقید کی بجائے اس امر پر زور رکھا کہ ہم اقتدار میں آئیں یا نہ آئیں لیکن ہم گلگت بلتستان میں سہولتیں فراہم کریں گے نواز شریف کے ان خیالات کے اثرات گلگت بلتستان کے انتخابات پر کیا اثر ڈالیں گے نواز شریف نے گلگت میں اپنے خطاب کے دوران یہ عوام سے شکوہ بھی کیا کہ میرے جیسے بندے کا دیس نکالا کیوں ہونے دیا مجھے کیونکر ملک چھوڑ کر جانا پڑا کیونکر مجھے جیلوں میں ڈالا گیا قصور آپ کا بھی ہے مطلب کہ ابھی تک نواز شریف ماضی کی تلخیوں سے چھٹکارا نہیں پا سکے بھولے نہیں قطع نظر اس بات کے یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف اب بھی کارکردگی اور ڈیلیوری کو ہی اپنی جماعت کی مقبولیت کا ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن کیا ان کی حکومتیں اس ایجنڈا پر گامزن ہیں اس حوالہ سے دو آرا ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ معاشی صورتحال ہے اگر ن لیگ کی حکومتیں معیشت اور مہنگائی اور روزگار کے شعبوں میں بہتر نتائج دکھا پائیں گی تو نواز شریف کے سیاسی بیانیہ کو تقویت ملے گی نواز شریف کا سیاسی محاذ پر متحرک ہونا یقیناً ن لیگ کی سیاست میں تقویت کا باعث بنے گا ۔نواز شریف کو آج بھی خاص توجہ اور پذیرائی مل سکتی ہے لیکن اس کی وسعت کا دارو مدار موجودہ حکومتی کارکردگی اور بدلے ہوئے حالات میں ہوگا۔

خصوصاً مقبولیت کی بحالی تک ممکن بن پائے گی کہ مسائل زدہ عوام کے لئے حقیقی ریلیف ممکن بن پائے اور مبصرین تو سمجھتے ہیں کہ آج کے حالات ماضی کی نسبت بہت مختلف ہیں پاکستان معاشی بحران میں جکڑا نظر آ رہا ہے اور اس کیفیت میں نئی نسل کے ووٹرز کو متوجہ کرنے کے لئے مسلم لیگ ن کو صرف ماضی کی سیاست کی بجائے مستقبل کا واضح پروگرام بھی پیش کرنا ہوگا اور بتانا پڑے گا کہ ان کے پاس ایسا کوئی قابل عمل پروگرام ہے جو عوام کو ان کی طرف متوجہ کر سکے بلاشبہ نواز شریف کی سیاسی اہمیت اب بھی برقرار ہے لیکن ان کی سرگرمیوں کی نوعیت پہلے جیسی جارحانہ عوامی سیاست کی بجائے مفاہمت مشاورت اور جماعتی رہنمائی تک تو ہو سکتی ہے لیکن ن لیگ کی آئندہ سمت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پارٹی اور اس کی حکومتیں نواز شریف کے طرز حکومت کی طرف لوٹیں حکومتوں کو عوام کے مسائل کے حل کا ذریعہ بنائیں اور اپنی نمود و نمائش پر انحصار کرنے کی بجائے کارکردگی میں اضافہ کریں اس لئے کہ حکومتوں کی کارکردگی کو کسی طرح کی پابندی نااہلیوں کے عمل اور دبانے دیوار سے لگانے سے ختم نہیں کیا جا سکتا مسلم لیگ ن کی آئندہ سمت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پارٹی اقتدار تنظیم اور عوامی سیاست میں کس طرح سے توازن قائم کرتی ہے اور جماعت کی مقبولیت اور کردار کی بحالی کے لئے ضروری ہے کہ نواز شریف کے متحرک کردار پر انحصار کرنے کی بجائے ان کے طرز حکومت اور طریقہ کار کو اپنایا جائے اور لوگوں کے دلوں میں گھر بنایا جائے جو دراصل سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت ہوتی ہے جس پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں