سماجی عدم مساوات کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ

سماجی عدم مساوات کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ

ملک میں امیر اور غریب کافرق 28.4 سے بڑھ کر 32.7 فیصد ہو گیا رواں سال غریب نواز اخراجات پر46 کھرب 60 ارب خرچ کئے گئے

اسلام آباد(زاہداعوان )پاکستان میں غربت اور سماجی عدم مساوات کی شرح میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ،ملک میں امیر اور غریب کے فرق کو ظاہر کرنے والا قومی گینی کوفیشینٹ (Gini Coefficient) بھی 28.4 فیصد سے بڑھ کر 32.7 فیصد ہو گیا ، جو بڑھتی معاشی ناہمواری کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ دوسری جانب کنزیومر بیسڈ غربت میں اضافے کے باوجود اسی عرصے کے دوران سکولوں میں بچوں کی حاضری، شرح خواندگی، انٹرنیٹ تک رسائی، حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی، صفائی ستھرائی کے نظام اور صاف ایندھن کے استعمال جیسے سماجی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے ، حکومت کی جانب سے غریب نواز (Pro-Poor) اخراجات کی مد میں جاری مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران 4.66 ٹریلین(46 کھرب 60 ارب)روپے خرچ کئے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 4.25 ٹریلین روپے تھے ، جس میں سوشل سکیورٹی اور ویلفیئر کا حجم بڑھا کر 822.21 ارب روپے کر دیا گیا جبکہ قدرتی آفت سے نمٹنے کے اخراجات بھی تیزی سے بڑھ کر 224.92 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لئے ''سوشل پروٹیکشن والیٹس''کے تحت اب تک 73 لاکھ سمیں تقسیم اور 65 لاکھ سے زائد ایم ایس آئی ایس ڈی این شیئر کئے جا چکے ہیں۔ مزید بر آں دیگر سماجی تحفظ کے اداروں میں پاکستان پاورٹی ایلویشن فنڈ نے 2.75 ارب روپے تقسیم کئے اور 5.96 ارب روپے مالیت کے 101,188 بلا سود قرضے فراہم کئے ، پاکستان بیت المال نے 6.56 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے ،ملازمین کے تحفظ کے ادارے ای او بی آئی (EOBI) نے پنشنرز کے لئے 63.15 ارب روپے جمع کر کے 54.29 ارب روپے پنشن کی مد میں تقسیم کئے ، جبکہ ورکرز ویلفیئر فنڈ نے شادی گرانٹس، ڈیتھ گرانٹس، حج اور سکالرشپ کی مد میں 6.83 ارب روپے کا تعاون کیا ملک بھر میں مائیکرو کریڈٹ(چھوٹے قرضوں) کا حجم 739.08 ارب روپے تک پہنچ چکا جس سے اس وقت 75 لاکھ 40 ہزار سرگرم قرض دار مستفید ہو رہے ہیں ،مذکورہ اعداد وشمار زیادہ تر ہائوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کی بنیاد پر جاری کئے گئے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں