صحت اخراجات میں کمی کے باوجود اوسط عمر بڑھ کر 67.8 سال ہوگئی : ڈاکٹرز، نرسز کی تعداد میں اضافہ
238نئے ہسپتالوں کا قیام ، مجموعی تعداد 1934،بنیادی مراکز صحت کی تعداد بڑھ کر 5ہزار 746ہو گئی پڑھے لکھے افراد کی تعداد میں 2اعشاریہ 4فیصد تک اضافہ ،خواندگی کی شرح 60.6 سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی،دستاویز
اسلام آباد(فوزیہ علی)پاکستان میں صحت کے شعبے پر اخراجات میں اضافے کے بجائے کمی کا رجحان برقرار ہے ، گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال میں صحت کے شعبے پر اخراجات میں مزید کمی آگئی تاہم غیر متوقع طور پر لوگوں کی اوسط عمر میں اعشاریہ 2فیصد اضافہ ہوگیا۔اقتصادی سروے 2025-26 کی دستاویزکے مطابق صحت کے شعبہ پر اخراجات میں کمی کا سلسلہ جاری ہے ، گزشتہ مالی سال میں صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کے حساب سے اعشاریہ 9 فیصد اخراجات کئے گئے تھے جبکہ امسال یہ شرح صرف اعشاریہ 8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے ۔دستاویز کے مطابق ایک سال میں 238 نئے ہسپتال بنے اور مجموعی تعداد بڑھ کر 1934 تک پہنچ گئی۔ بنیادی مراکز صحت کی تعداد میں 312 یونٹ کا اضافہ ہوا ہے اور مجموعی تعداد 5 ہزار 746 یونٹس تک پہنچ گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات فی ایک ہزار میں 47 رہی ، لوگوں کی اوسط عمر میں اعشاریہ دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ پاکستان میں اس وقت اوسط متوقع عمر 67.8 سال ہوگئی ہے ۔دستاویز کے مطابق 2025 کے مقابلے میں موجودہ مالی سال میں ڈاکٹروں کی تعداد میں 5.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ملک میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد 3 لاکھ 36 ہزار 582 ہوگئی ہے ۔ 2024 میں ڈاکٹرز کی تعداد 3 لاکھ 19 ہزار 572 تھی۔ جسٹرڈ "ڈینٹسٹس" کی تعداد 42 ہزار 118 ریکارڈ کی گئی۔ ڈینٹسٹس کی مجموعی تعداد میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا۔ ملک بھر میں نرسز کی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار 391 ہوگئی ہے ۔ر جسٹرڈ دائیوں کی تعداد 46 ہزار 801 تک پہنچ گئی۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد 29 ہزار 163 ریکارڈ کی گئی۔دستاویز کے مطابق ملک میں پڑھے لکھے افراد کی تعداد میں 2 اعشاریہ چار فیصد اضافہ ہوا جبکہ خواندگی کی شرح 60.6 سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی۔ تاہم 28 فیصد بچے ابھی بھی سکولوں سے باہر ہیں۔