معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بہترین بجٹ : کاروباری صنعتی تنظیموں کی حکومت کو مبارکباد

معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بہترین بجٹ : کاروباری صنعتی تنظیموں کی حکومت کو مبارکباد

برآمدکنندگان کیلئے 4.5 فیصد مارک اپ،فکسڈ ٹیکس سکیم، سپرٹیکس کا خاتمہ خوش آئند:صدر وفاقی چیمبر عاطف اکرام کا وزیراعظم کو مراسلہ حکومت دستاویزی معیشت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز کی آراء و تحفظات سن رہی،ٹیکس نیٹ وسیع کرنیکی رفتار برقرار رکھیں:پاکستان بزنس کونسل

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)کاروباری و صنعتی تنظیموں نے وفاقی بجٹ پر حکومت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے یہ ایک بہترین بجٹ ہے ۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس، راولپنڈی چیمبر آف کامرس، پاکستان بزنس کونسل اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن سمیت مختلف کاروباری اداروں نے وفاقی بجٹ 2026-2027 کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کیلئے حوصلہ افزا قرار دیا ہے ۔وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت پاکستان (ایف پی سی سی آئی)کے صدر عاطف اکرام شیخ نے وزیراعظم شہباز شریف کے نام مراسلے میں کہا پاکستان کی کاروباری، صنعتی اور تجارتی برادری کی نمائندہ تنظیم ہونے کے ناطے وہ وزیراعظم، وزیر خزانہ اور پوری معاشی ٹیم کو کامیاب بجٹ پیش کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پاکستان کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے مسلسل پانچ وفاقی بجٹ پیش کیے جو پالیسیوں کے تسلسل اور معاشی نظم و نسق کے لیے حکومتی عزم کا مظہر ہے ۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی وفاقی بجٹ میں شامل ان اقدامات کا خیرمقدم کرتی ہے جن کا مقصد اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات، معیشت کی دستاویزی شکل اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنا ہے ۔ انہوں نے خاص طور پر برآمد کنندگان کے لیے بینک مارک اپ کی شرح 4.5 فیصد مقرر کرنے اور سپر ٹیکس کے خاتمے کو خوش آئند قرار دیا۔انہوں نے آئی ٹی برآمدات کے لیے فائنل ٹیکس رجیم ( ایف ٹی آر) میں توسیع، بیرون ملک اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی)کے خاتمے ، سیکشن 236C اور 236K کے تحت ودہولڈنگ ٹیکسوں میں اصلاحات، سیکشن 7E کے خاتمے ، سیکشن 4C کے تحت سپر ٹیکس میں کمی، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان سکیم کے اجرا، بینک کارڈز کے ذریعے بین الاقوامی لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، زرعی مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے اور تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف کو بجٹ کی نمایاں خصوصیات قرار دیا۔

مراسلہ میں کہا گیا کہ حکومت نے ٹیرف ریشنلائزیشن، معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس انتظامیہ میں بہتری اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)میں شفافیت بڑھانے کیلئے بھی اہم اقدامات کیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت کو محدود مالی گنجائش کا سامنا ہے تاہم بجٹ میں کیے گئے اقدامات درست سمت میں پیش رفت ہیں جو آنے والے برسوں میں معیشت کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مدد دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی نے وفاقی بجٹ کی تیاری کے دوران حکومتی معاشی ٹیم کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔ انہوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، بلال اظہر کیانی، جام کمال خان، ہارون اختر خان، چیئرمین ایف بی آر اور ڈاکٹر نجیب میمن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ مشاورت کے نتیجے میں ایک ترقی پسند بجٹ کی تشکیل ممکن ہوئی۔عاطف اکرام شیخ نے وزیراعظم کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران نمایاں کامیابیاں حاصل کیں جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع میں پاکستان کے مثبت سفارتی کردار کو بھی عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔

انہوں نے کہا کہ ان کامیابیوں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کی خدمات نے پاکستان کا وقار بلند کیا ہے ۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایف پی سی سی آئی اور ملک کی کاروباری برادری وزیراعظم کی قیادت میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی تاکہ ان قومی کامیابیوں کو مضبوط اور مستحکم معیشت میں تبدیل کیا جا سکے ۔پاکستان بزنس کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسرجاوید قریشی نے کہاکہ یہ بجٹ اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت پاکستان کی دستاویزی معیشت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز کی آراء اور تحفظات کو سن رہی ہے ،پاکستان بزنس کونسل نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی رفتار برقرار رکھی جائے اور ایسے شعبوں کو معیشت کے باضابطہ دائرے میں لایا جائے جو یا تو ٹیکس ادا نہیں کرتے یا اپنی حقیقی استعداد کے مطابق ٹیکس ادا نہیں کر رہے ۔

اس سے باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد اور کاروباری اداروں پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور کاروباری شعبے کیلئے ریلیف اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اوورسیز سپر ٹیکس میں کمی اور برآمدی شعبے کیلئے مراعات کو سرمایہ کاری کیلئے مثبت اشارہ قرار دیا۔راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے تنخواہ دار طبقے پر سرچارج کے خاتمے اور انکم ٹیکس میں کمی کو متوسط طبقے کیلئے اہم ریلیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے کاروباری ماحول بہتر ہوگا اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے بھی بجٹ کو کئی برسوں بعد ایسا مالیاتی منصوبہ قرار دیا جو بحران سے نکل کر ترقی کے واضح اہداف پر مرکوز ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں