512 سکھ یاتری حسن ابدال سے سخت سکیورٹی میں لاہور روانہ
روانگی پر داخلی ، خارجی راستے بند ،1037پولیس اہلکار حفاظت پر ماموررہے یہاں لوگوں کا پیار دیکھ کر دل بھر آتاہے ،کلونت کور،سکھوندرکور، دلجیت سنگھ،ہرپال سنگھ
حسن ابدال (اے پی پی) بھارت سے آئے 512 سکھ یاتریوں کو 12 خصوصی بسوں کے ذریعے گوردوارہ سری پنجہ صاحب حسن ابدال سے سخت سکیورٹی میں لاہور روانہ کر دیا گیا ہے جہاں وہ سکھ مذہب کے پانچویں گرو ارجن دیو جی کے سالانہ جوڑ میلہ کی تقریبات میںشرکت کریں گے ۔ سکھ یاتریوں کی روانگی کے وقت سکیورٹی کے پیشِ نظر تمام داخلی اور خارجی راستے مکمل طور پر بند کر د ئیے گئے تھے ۔ کارواں میں شامل ہر گاڑی کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات تھے جبکہ موٹر وے تک پورے روٹ پر پولیس اہلکار جگہ جگہ راستوں، گلیوں اور عمارتوں کی چھتوں پر ہائی الرٹ رہے ۔ سکھ یاتریوں کے وفدکی واپسی کو محفوظ بنانے کے لیے مجموعی طور پر ایک ہزار سینتیس افسران اور جوان ڈیوٹی پر تعینات کیے گئے تھے ۔ برہان انٹرچینج سے حسن ابدال اور منوں نگر تک جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف خاردار تار اور بیریئرز لگائے گئے تھے اور جتھہ کی موومنٹ شروع ہونے سے قبل روٹ پر ہر قسم کی غیر متعلقہ ٹریفک کا داخلہ مکمل طور پر بندکر دیا گیا تھا ۔ سکھ یاتریوں نے پاکستان میں ملنے والی والہانہ محبت، شاندار مہمان نوازی پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ امر تسر سے آئی بی بی کلونت کور نے کہا یہاں کے لوگوں کا پیار دیکھ کر دل بھر آتا ہے ، حکومتِ پاکستان نے جو لنگر، رہائش، ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے ہیں وہ لاجواب ہیں، جالندھر سے آئے سردار دلجیت سنگھ نے کہا یہ ملک امن اور آشتی کا ہے ،گورداسپور سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون یاتری سکھوندر کور نے کہا کہ حسن ابدال اور دیگر مقامات پر ٹھنڈے پانی کی سبیلیں ، طبی کیمپ اور چوبیس گھنٹے لنگر کی سہولت دینے پر پاکستانی عوام اور حکومت کے شکر گزار ہیں۔ ہریانہ سے آئے سردار ہرپال سنگھ کا کہنا تھا کہ یہ خطہ امن پسند لوگوں کا گہوارہ ہے ۔