رواں مالی سال تنخواہ داروں سے 655 ارب جمع ہونگے، آئندہ بجٹ میں سوا 700 ارب وصولی کا ابتدائی تخمینہ
اب تک تنخواہ دارطبقہ625ارب سے زائد جمع کرواچکا، آئندہ مالی سال ٹیکس کمی کی مد میں 57ارب کا ریلیف ،44لاکھ کمرشل کنکشن،صرف 4لاکھ ایف بی آر کیساتھ رجسٹرڈ کسی دکاندار کا پلاٹ یا بڑی گاڑی نکل آئی تو آڈٹ ہوگا:ایف بی آر،سُپر ٹیکس سے سالانہ 4سو ارب آمدن ہوتی :بلال کیانی، ایسا لگتا یہ بجٹ گروتھ کا نہیں:چیئرمین قومی اسمبلی خزانہ کمیٹی
اسلام آباد (مدثر علی رانا) ذرائع نے بتایا کہ رواں مالی سال تنخواہ دار طبقے سے 655ارب روپے آمدن رہے گی اور آئندہ مالی سال تقریباً سوا 7 سو ارب روپے تک تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس آمدن کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ ابھی تک 625 ارب روپے سے زائد جمع ہو چکا ہے اور تنخواہ دار طبقہ ٹیکس ادا کر چکا ہے ۔ آئندہ مالی سال ٹیکس کمی کی مد میں 57 ارب روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خزانہ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال مانیٹرنگ کے باعث 42 ارب روپے شوگر سیکٹر اور 26 ارب روپے سیمنٹ سیکٹر سے اضافی ریکوری ہوئی۔ مجموعی طور پر فارمل تمباکو سیکٹر سے 365 ارب روپے کی ٹیکس کلیکشن رہی۔
ایڈوانس ٹیکس کی مد میں تقریباً 2 ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا۔سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں ممبر ایف بی آر حامد عتیق سرور نے بتایا کہ انٹرنیشنل بزنس کلاس سفر میں ٹیکسز میں بڑی کمی کی گئی ہے ، اس سے ہماری ایئرلائنز کو بھی نقصان ہوا اور ٹیکس بھی نہیں آ رہا تھا، لوگ باہر سے ٹکٹس لینا شروع ہو گئے تھے ۔ حکام نے بتایا کہ بیرون ممالک اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کر دیا ، پنک ٹیکس 18 فیصد سے زیرو کر دیا گیا ہے ، شپنگ انڈسٹری کیلئے 18 فیصد سیلز ٹیکس بھی زیرو کر دیا گیا۔
فورم کو آگاہ کیا کہ شیڈول 3 میں شامل کی گئی اشیاء پر سیلز ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا گیا ، ہم صرف کہہ رہے ہیں کہ اس چیز کے اوپر قیمت اور ٹیکس لکھ دیں، پیکنگ میں جو بھی چیزیں آ رہی ہیں وہ شیڈول 3 میں آ رہی ہیں۔سید نوید قمر نے کہا کہ ریٹیلرز سکیم پر بہت سے اعتراضات ہیں۔ وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ایک سال میں 35 لاکھ دکانداروں کی انفورسمنٹ نہیں کر سکتے ، ریٹیلر سکیم ہم نے تاجروں اور ریٹیلرز کے ساتھ بیٹھ کر ہی بنائی ہے ۔حامد عتیق نے بتایا کہ ملک میں 44 لاکھ کمرشل کنکشن لگے ہوئے ہیں، 44 لاکھ میں سے صرف 4 لاکھ ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، ہم صرف ایک لاکھ بڑے دکانداروں کو اس میں لا رہے ہیں، کسی دکاندار کا پلاٹ نکل آیا یا بڑی گاڑی نکل آئی تو ہم پھر اس کا آڈٹ کریں گے۔
فورم کو بتایا گیا کہ ایکسپورٹرز کو نارمل ٹیکس رجیم میں رکھا گیا ہے ، ایکسپورٹرز پر نارمل ٹیکس رجیم میں 2 فیصد ٹیکس کٹ رہا تھا، آئی ایم ایف فائنل ٹیکس رجیم کو قبول نہیں کرتا، 2 فیصد ٹیکس کو اب ایکسپورٹرز کیلئے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکسز کے ذریعے ٹیکس تو حاصل ہوتا ہے مگر معیشت کی سمت متاثر ہوتی ہے ۔ قومی اسمبلی خزانہ کمیٹی کو سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال آئندہ مالی سال کے دوران بجٹ میں مجموعی طور پر ریلیف کا حجم بتانے سے گریزاں رہے اور کہا کہ کمیٹی اراکین کو ان کیمرہ بریفنگ میں ریلیف کا حجم بتا سکتے ہیں۔
کمیٹی رکن جاوید حنیف نے سوال پوچھا کہ کیا سُپر ٹیکس، تنخواہ دار، صنعتوں کو ریلیف سمیت ریلیف کا مجموعی حجم 360 ارب روپے تک ہے جس پر چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے بتایا کہ 360 ارب روپے کے لگ بھگ ٹوٹل ریلیف دیا گیا۔چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ معاشی نمو اس بجٹ سے ممکن ہے یا نہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ بجٹ گروتھ کا بجٹ نہیں۔ آپ یہ کہیں گے پہلے آئی ایم ایف سے مغز ماری کی ہے اب یہاں کرنی پڑتی ہے ، آئی ایم ایف سے بات چیت میں تمام امور کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے ۔کمیٹی رکن جاوید حنیف نے کہا کہ آئی ایم ایف سے آپ کو بات کرنے میں آسانی ہوگی کہ پارلیمنٹ نہیں مان رہی۔وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ ٹیکس کے حوالے سے ہماری کوشش تھی کہ جن شعبوں پر بوجھ ہے وہ کم ہو، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس بات کو مدنظر رکھا اور ریلیف دیا گیا۔
وزیر اعظم نے آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا، تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیبز پر ریلیف دیا گیا اور سرچارج بھی ختم کردیا گیا۔ ماہانہ بنیادوں پر تنخواہ دار طبقے کو ریلیف نظر آرہا ہے ، سالانہ چھ لاکھ آمدن والے پر ٹیکس صفر ہے ۔ سپر ٹیکس کی پہلی چھ سلیبز کو ختم کیا گیا ہے ۔ کھاد، بینک اور پٹرولیم کمپنیوں پر 50 کروڑ روپے سے اوپر آمدن سپر ٹیکس 10 فیصد ہوگا، دوسری شعبوں پر 50 کروڑ روپے سے اوپر ٹیکس 8 فیصد ہوگا۔ سُپر ٹیکس کی مد میں سالانہ 4 سو ارب روپے کی آمدن ہوتی ہے ۔حکام نے بتایا کہ 75 ہزار ڈالر کی گاڑی درآمد کرنے پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں کی گئی۔ یوریا بنانے والے تینوں فرٹیلائزر پلانٹس کو سبسڈائزڈ نرخوں پر گیس فراہم کی جا رہی ہے ۔ فرٹیلائزر سیکٹر پر مجموعی ٹیکس کی شرح 39 فیصد ہے ۔ بینکوں پر ٹیکس کی مجموعی شرح 52 فیصد تک ہے۔