مجرمانہ فعل کو ’’غیرت‘‘ کا نام دینا افسوسناک ، انسانی حقوق کمیٹی
جڑانوالہ واقعہ کو اقلیتوں کے تحفظ کیلئے ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جائیگا ، ثمینہ زہری
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر،اپنے رپورٹر سے ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے کیسز پر سخت تشویش کااظہار کیا ۔ کمیٹی کا اجلاس سوموار کو پارلیمنٹ لاجز میں چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیرِ صدارت ہوا ، کمیٹی کو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات کے حوالے سے تفصیلات پیش کی گئیں۔ اراکین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سنگین مجرمانہ فعل کو ’’غیرت‘‘ کے نام سے موسوم کیا جانا افسوسناک ہے ۔ خاص طور پر بلوچستان اور سندھ میں سزا کی انتہائی کم شرح پر کمیٹی نے گہری بے چینی کا اظہار کیا۔ چیئرپرسن سینیٹر زہری نے کہا صنفی بنیاد پر تشدد کے مقدمات میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر پرسخت تشویش ہے ۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں سخت سزاؤں سے متعلق قانونی اقدامات پر بریفنگ دی۔
سول سوسائٹی شرکا نے جرگوں کو متبادل تنازعاتی حل کے نظام کے طور پر باقاعدہ حیثیت دینے کی تجویز پیش کی، جسے کمیٹی نے متفقہ طور پر مسترد کر دیا۔ چیئرپرسن نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ زیرِ سماعت مقدمات سے متعلق نقصان دہ آن لائن مواد سے نمٹنے کے لیے ایک موثر اور قانونی فریم ورک پیش کیا جائے ۔ لاہور میں احمد جاوید کے ٹارگٹ کلنگ کیس پر اراکین نے ملزم کی ضمانت، اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل نہ کیے جانے پر شدید تشویش ظاہر کی۔ 2023 کے جڑانوالہ واقعے بارے بتایا گیا کہ گرجا گھروں اور مسیحی برادری کے گھروں پر حملوں کے بعد معاوضوں کی ادائیگی میں تاخیر انتہائی تشویشناک ہے ۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ جڑانوالہ واقعے کو احتساب، انصاف اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جائے گا۔