امن معاہدہ سے سبز ہلالی پرچم سر بلند، وزیراعظم کا والہانہ استقبال

 امن معاہدہ سے سبز ہلالی پرچم سر بلند، وزیراعظم کا والہانہ استقبال

وزیراعظم کی اسمبلی آمد پرارکان نے ڈیسک بجائے ، پاکستان زندہ باد کے نعرے ارکان لکھی تقاریر پڑھتے ، جمائیاں لیتے رہے ،مولانا سے مختصر تقریر کی درخواست

اسلام آباد (سید قیصر شاہ،سہیل خان ) امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدے اور جنگ بندی کے اعلان نے سبز ہلالی پرچم کو دنیا بھر میں مزید سربلند کر دیا۔ پاکستان کے حصے میں یہ اعزاز آنے کے بعد جب وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی اجلاس میں پہنچے تو اراکین اسمبلی نے کھڑے ہو کر اور ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا اور ایوان ‘‘پاکستان زندہ باد’’ کے نعروں سے گونج اٹھا۔قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے تیسرے روز غیر معمولی سیاسی ماحول دیکھنے میں آیا۔ امن معاہدے کی خبروں نے ایوان کی فضا کو یکسر بدل دیا۔ حکومتی اراکین نے اسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے بھرپور انداز میں خیرمقدم کیا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بھی اس پیش رفت پر مثبت ردعمل سامنے آیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیا اور اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا۔ ان کی آمد پر حکومتی بینچوں سے ‘‘شیر شیر’’ کے نعرے لگائے گئے اور اراکین نے ڈیسک بجا کر اظہارِ مسرت کیا۔اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کی گیلری میں ایرانی سفیر اپنے وفد کے ہمراہ موجود رہے ۔ ارکان اسمبلی نے ان کا خیرمقدم کیا اور اظہارِ یکجہتی کیا جس پر ایرانی سفیر نے بھی شکریہ ادا کیا۔ مہمانوں کی موجودگی کے دوران اپوزیشن نے کسی قسم کی نعرہ بازی یا احتجاج نہیں کیا اور ماحول نسبتاً خوشگوار رہا۔تاہم گیلری سے مہمانوں کے جانے کے بعد ایوان میں روایتی سیاسی رنگ واپس آ گیا۔

اپوزیشن اراکین نے بجٹ پر بحث کے دوران حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔وزیراعظم کی موجودگی کے دوران حکومتی بینچوں پر حاضری نمایاں رہی تاہم ان کے جانے کے بعد دونوں جانب کے متعدد اراکین لابیوں کا رخ کرتے رہے۔ ایک موقع پر ایوان میں اراکین کی تعداد خاصی کم نظر آئی لیکن اس کے باوجود بجٹ پر بحث اور تقاریر کا سلسلہ جاری رہا۔ ارکان کی اکثریت قواعد وضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے سپیکر کی اجازت کے بغیر لکھی تقریر کرتی رہی ، ارکان قومی اسمبلی کی اکثریت نے اپنے ‘‘آرام’’ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور اجلاس میں ‘‘قیلولہ’’ کرتے ہوئے شریک رہے جبکہ بعض ارکان جمائیاں لیتے بھی دکھائی دئیے ۔ مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کے حوالے سے کہا کہ ان کی قید سے ملک میں تلخی ہے ۔ ڈپٹی سپیکر نے فضل الرحمن سے تقریر مختصر کرنے کی درخواست کی جس پر مولانا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ‘‘بولنے کے لیے اتنے درد ہیں کہ ہر لفظ پر وقت چاہیے ، مختصر کرنا ممکن نہیں۔مجھے آپ کے درد کا احساس ہے ِِآپ کو درد کہیں اور سے آتا ہے اب فتویٰ نہ دے دینا کہ آپ کو صرف 5منٹ بولنا ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں