پاکستانی نژاد آسٹریلوی بچی کی فائرنگ سے موت ، اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم
واقعہ ہائی پروفائل کیس قرار،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ،پنجاب اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش آسٹریلوی وزیراعظم کا پاکستان سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ ،واقعہ انسانی غلطی ،سی سی ڈی غیرجانبدار رہے گا :سہیل ظفر
لاہور، چکوال (کورٹ رپورٹر، سیاسی نمائندہ، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی)کے اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے آسٹریلیا سے آنے والی پاکستانی نژاد 9 سالہ بچی ہانیہ کی ہلاکت اور2افراد کے زخمی ہونے کے واقعے نے ملک بھر میں شدید ردعمل پیدا کر دیا ۔ واقعے کی مختلف سطحوں پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ سیاسی، قانونی اور بین الاقوامی سطح پر شفاف انکوائری کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے واقعے کو ہائی پروفائل کیس قرار دیتے ہوئے مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے ۔ ایف آئی آر کے مطابق 10 جون کی رات چکوال کے علاقے ڈھڈیال میں متاثرہ خاندان اپنی گاڑی میں موجود تھا کہ مبینہ ڈاکوؤں نے انہیں اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا، اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور افراتفری میں سی سی ڈی اہلکار نے غلط فہمی کے باعث گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ہانیہ موقع پر جاں بحق جبکہ والد اور بھائی زخمی ہو گئے ۔متاثرہ خاندان کے مطابق وہ آسٹریلیا سے پاکستان آئے تھے اور سسرال میں دعوت کے بعد واپس جا رہے تھے جب موٹر سائیکل سوار دو افراد نے انہیں روک کر لوٹ مار کی کوشش کی۔
ان کے مطابق ڈاکوؤں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے دوران ان کی گاڑی نشانہ بنی۔ بعدازاں ہسپتال منتقلی کے دوران بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ ایف آئی آر میں واقعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 394 اور 440 کے تحت درج کیا گیا ہے جبکہ بعد ازاں ضمنی چالان میں سی سی ڈی اہلکار کو بھی نامزد کیا گیا۔جوڈیشل ایکٹوزم پینل نے واقعے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کے لیے اعلیٰ حکام کو خط ارسال کیا ہے اور جے آئی ٹی تشکیل دینے ، سی سی ٹی وی ریکارڈ محفوظ کرنے ، اسلحے کا فرانزک اور تمام شواہد متاثرہ خاندان کے ساتھ شیئر کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔پنجاب اسمبلی میں بھی معاملہ پہنچ گیا ہے۔
جہاں رکن صوبائی اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کراتے ہوئے حکومت سے ایف آئی آر، پولیس کارروائی اور سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے واقعے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے پاکستان سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ خاندان اور عوام کو حقائق معلوم ہو سکیں۔ سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے واقعے کو انسانی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ مکمل طور پر غیر جانبدار تحقیقات کرے گا اور کسی کو بچانے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق معاملے کی حتمی ذمہ داری کا تعین فرانزک رپورٹ اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔