عمران سے ملاقات کیلئے دائر درخواست پر3اعتراضات دور
سہیل آفریدی،مزمل اسلم کی درخواست پر اسی نوعیت کے کیسز کی رپورٹ طلب وکالت ناموں پر عمران ، بشریٰ کے دستخط نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست دائر
اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرونے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے متعلق کیس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اورمشیرخزانہ مزمل اسلم کی درخواست پر رجسٹرارآفس کے چار میں سے تین اعتراضات دور کرتے ہوئے رجسٹرار آفس سے اسی نوعیت کے کیسز کی رپورٹ طلب کرلی۔ درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت کے دوران سہیل آفریدی اور مزمل اسلم کی جانب سے وکیل علی بخاری پیش ہوئے ، جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا آپ کی درخواست پر آفس کے اعتراضات ہیں، جس پر خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا یہ پٹیشن فائل کرنے کے لیے کابینہ نے اس کی منظوری دی ہے ، جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا یہ پٹیشن خیبرپختونخوا حکومت نے دائر نہیں کی بلکہ انفرادی ہے ، علی بخاری ایڈووکیٹ نے کہا اس کیس میں رجسٹرار آفس کا اعتراض بنتا نہیں تھا، اس کیس میں ایشو بجٹ کا ہے ، اب سوال یہ ہے کہ مشاورتی میٹنگ ضروری ہے یا نہیں ، اس سوال کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے رجسٹرارآفس نے نہیں ،بعد ازاں جسٹس خادم حسین سومرو نے سماعت کا حکمنامہ جاری کرتے ہوئے درخواست پر لگائے گئے۔
رجسٹرارآفس کے چار میں سے تین اعتراضات دور کرتے ہوئے اسی نوعیت کے اور کیسز بھی زیر التوا ہونے متعلق اعتراض پر رپورٹ طلب کر لی ،آئندہ سماعت 18 جون ہوگی ۔ ادھرعمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ کرا کے دینے کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا، بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کی الگ الگ درخواستیں دائر کردیں، جن میں موقف اختیار کیاگیا کہ 20 مئی کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا ،عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو وکالت ناموں پر دستخط کرا کے دینے کی ہدایت کی تھی ،ہماری ٹیم اڈیالہ جیل جاتی رہی لیکن وکالت ناموں پر دستخط نہیں ہوئے ، استدعا ہے سپرنٹنڈنٹ جیل کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔