کم از کم اجرت کا سب پراطلاق ،پختونخوا اسمبلی میں مطالبہ
ترقیاتی منصوبوں کی مدت مقرر کرنے اور اخراجات نگرانی کیلئے قانون سازی کرینگے ،مشیر خزانہ صوبے کے نظم و نسق کیلئے 14ارب 77کروڑ سے زائد کے مطالباتِ زر منظور
پشاور (اے پی پی)خیبرپختونخوا اسمبلی نے کم از کم اجرت کا اطلاق سب پر لاگو کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔ سپیکر بابر سلیم سواتی سیکنڈ شفٹ اساتذہ کے لیے مضبوط آواز بن گئے اور ان کی تنخواہیں کم از کم مقررہ اجرت 45ہزار روپے کے برابر کرنے کے لیے حکومت پر زور دیا۔ حکومتی رکن عبیدالرحمن نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں توجہ دلائی کہ صوبائی حکومت نے رواں سال کم از کم ماہانہ اجرت 45ہزار روپے مقرر کی ہے ، تاہم سیکنڈ شفٹ پروگرام کے تحت خدمات انجام دینے والے ہزاروں اساتذہ کو صرف 25 ہزار روپے ماہانہ دئیے جا رہے ہیں، وہ بھی تین تین ماہ کی تاخیر سے ۔اس پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اساتذہ کا معاہدہ ایجوکیشن فا ئونڈیشن اور ہیلتھ فا ئونڈیشن کے ساتھ ہے اور ان کا براہ راست صوبائی حکومت سے ملازمت کا تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکنڈ شفٹ اساتذہ پارٹ ٹائم بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور گزشتہ سال ان کی تنخواہیں بڑھا کر 25 ہزار روپے کی گئی تھیں۔ اگر محکمہ تعلیم اس حوالے سے کوئی سمری ارسال کرتا ہے تو وزارت خزانہ اس کا جائزہ لے گی۔
ارکان نے کہا کہ سیکنڈ شفٹ اساتذہ کی تنخواہیں کم از کم مقررہ اجرت کے برابر کی جائیں ،مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ عوامی وسائل کے شفاف استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے نئی قانون سازی کی جا رہی ہے جبکہ اخراجات اور ترقیاتی سکیموں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعارف کرایا جائے گا۔صوبائی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے خرچ ہونے والی رقم پر موثر نگرانی اور عوامی فیڈبیک کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام شہری تک پہنچ رہے ہیں یا نہیں، حکومت اے آئی اتھارٹی متعارف کرا رہی ہے جو اخراجات اور بلوں کی تصدیق سمیت مالی معاملات کی نگرانی میں معاونت فراہم کرے گی۔ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور لاگت میں اضافے کے مسئلے کا مستقل حل صرف قانون سازی ہے۔
پختونخوا اسمبلی میں بجٹ پر جاری عمومی بحث کے دوران صوبے میں امن و امان کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں کی سست روی، تعلیم و صحت کے شعبوں میں درپیش چیلنجز، ضم اضلاع کے مسائل اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے اہم معاملات زیر بحث رہے ۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے اپنے اپنے حلقوں کے مسائل اجاگر کرتے ہوئے بجٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی اور حکومت سے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبے کے نظم و نسق کے لیے 14ارب 77کروڑ 21لاکھ روپے سے زائد کے مطالباتِ زر کثرتِ رائے سے منظور کر لیے ۔ سپیکر بابر سلیم سواتی نے ایوان میں اراکین کی جانب سے شور شرابے اور بیوروکریسی کی عدم حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جو سیکرٹری اسمبلی اجلاس میں موجود نہیں ہوگا اس کے محکمے کا بجٹ منظور نہیں کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم ارشد ایوب نے کہا کہ2030 تک سکول سے باہر تمام بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لائیں گے ، ضم اضلاع کو این ایف سی میں مکمل حصہ ملنا چاہیے۔