نان و نفقہ کے بقایاجات پر سالانہ اضافہ نہیں لگ سکتا:ہائیکورٹ
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے خرچہ ،نان و نفقہ میں سالانہ اضافے سے متعلق فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خرچہ نان و نفقہ میں سالانہ 10 فیصد اضافے کی شق کا اطلاق ماضی کے بقایاجات پر لاگو نہیں ہوسکتا۔
لاہورہائیکورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے خرچہ نان و نفقہ کے حوالے سے نیا قانونی نکتہ طے کردیا ۔تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ کے جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے رانا تسنیم اعجاز کی درخواست پر 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ ماتحت عدالت نے ماضی کے 6 سال پرانے خرچے پر بھی10 فیصد سالانہ اضافہ لگا دیا ، فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے ۔ درخواستگزار کی سابق اہلیہ کا مو قف تھا کہ قانون کے تحت خرچے کی رقم میں سالانہ اضافہ ماضی کے بقایاجات پر بھی ملنا چاہیے ، عدالت درخواست گزار کی اپیل خارج کرے ۔ تاہم جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے د لائل مکمل ہونے پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ سالانہ اضافے کا قانون مستقبل کی مہنگائی اور اخراجات کے پیشِ نظر ہے ، سالانہ اضافے کوماضی کے طے شدہ واجبات پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، ماتحت عدالتوں نے 10 فیصد سالانہ اضافہ کوماضی سے شامل کر کے دائرہ اختیار کی سنگین غلطی کی، خرچہ نان و نفقہ میں سالانہ 10 فیصد اضافے کی شق کا اطلاق ماضی کے بقایاجات پرلاگو نہیں ہوسکتا۔ لاہورہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیئے اور عملدرآمدکورٹ کو نان و نفقہ کی واجب الادا رقم کا دوبارہ حساب کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپیل نمٹادی۔