سندھ اسمبلی :3.562کھرب کا بجٹ منظور،اپوزیشن کی 1600کٹوتی کی تحاریک مسترد
165 ارب کی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری، مراد علی شاہ کا 720 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا اعلان کراچی کے لیے 206 ارب روپے مختص ،صوبے میں 1800 سے زائد ترقیاتی اسکیمیں مکمل کرنے کے عزم کا اظہار صوبے کے آئینی، مالی حقوق کا دفاع کرینگے ،تقسیم کی سیاست نہ کی جائے ،وزیراعلیٰ ،اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے اتوار کی شب مالی سال 2026-27کے لیے 3.562 کھرب روپے کا بجٹ منظور کر لیا جبکہ 165 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دے دی۔ بجٹ اجلاس کے دوران ایوان نے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی 1,600 کٹوتی کی تحاریک مسترد کر دیں۔ صوبائی اسمبلی نے مالیاتی بل بھی منظور کر لیا جس کے تحت کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا بلکہ موجودہ ٹیکسوں کو معقول اور منظم بنایا گیا ہے ۔ فنانس بل کے ذریعے بعض محصولات کی شرحوں میں ردو بدل کیا گیا ہے ۔اپوزیشن کی جانب سے نیشنل گیمز کے لیے مطالبات زر پر کٹوتی کی تحریک پیش کی گئی، وزیراعلیٰ کی طرف سے تحریک کی مخالفت کی گئی ۔ اپوزیشن نے میرا لیاری فلم کے لیے مطالبہ زر پر بھی کٹوتی تحریک پیش کی تھی جسے مسترد کردیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ نے تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پہلا صوبہ ہے جس نے فلم بنائی ہے ، اس فلم میں صوبے کا مثبت چہرہ دکھایا گیا ہے ۔ سندھ فنانس بل کی منظوری کے وقت ایم کیو ایم کے رکن صابر قائمخانی نے زرعی شعبے پر سپر ٹیکس کی شرح سے متعلق ترمیم پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ 5کروڑ سالانہ زرعی آمدن پر 8فیصد ٹیکس لگایاجائے ۔ وزیراعلیٰ نے ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ زرعی آمدن پر سپر ٹیکس وفاقی حکومت نے بھی کم کیا ہے کیونکہ زراعت پیشہ افراد کی اتنی آمدن نہیں ہوتی۔ ایوان نے یہ ترمیم مسترد کردی ۔ فنانس بل کے ذریعے مختلف ٹیکسوں کی شرح میں اور ٹیکس نیٹ میں تبدیلی کی گئی ہے ۔صوبائی بجٹ کی منظوری کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس برخواست کردیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ مراد شاہ نے مالی سال 2026-27کے لیے اپنی حکومت کے 3.562 کھرب روپے کے بجٹ کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ محتاط مالی نظم و ضبط، ریکارڈ قانون سازی میں شرکت، زراعت، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے میں نمایاں کامیابیوں اور سندھ کو تجارت، مالیات، قابل تجدید توانائی اور سرمایہ کاری کا علاقائی مرکز بنانے کے لیے ایک پرعزم روڈ میپ کی عکاسی کرتا ہے ۔سندھ اسمبلی میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا صوبے نے 344 ارب روپے کے بجٹ خسارے ، وفاقی مالی گنجائش میں کمی اور گزرنے والے مالی سال کے دوران 95 ارب روپے سے زائد کے اضافی اخراجات کے باوجود مالی نظم و ضبط برقرار رکھا۔
اس کے باوجود حکومت نے تقریباً 100 بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ، سندھ کی تاریخ میں پہلی بار گندم میں خود کفالت حاصل کی، سماجی تحفظ کے پروگراموں کو وسعت دی اور اہم عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھا۔انہوں آئندہ مالی سال کے لیے 720 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا بھی اعلان کیا، جس میں کراچی کے لیے 206 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پورے صوبے میں ایک ہزار 800 سے زائد ترقیاتی اسکیمیں مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اپنی تقریر کے دوران مراد شاہ نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا، انتظامی اخراجات میں 62 ارب روپے سے زائد کی کمی لائی گئی اور وسائل کو ترقی، سماجی بہبود، بنیادی ڈھانچے اور معاشی ترقی کے منصوبوں کی جانب منتقل کیا گیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کا ایک بڑا حصہ مالی سال 2025-26 کے دوران حکومت کی ترقیاتی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے وقف کیا۔ انہوں نے تفصیلی تصویری پریزنٹیشن کے ذریعے صحت، تعلیم، آبپاشی، سڑکوں، رہائش، خصوصی افراد کی شمولیت، سیاحت، کھیلوں اور شہری ترقی کے مکمل ہونے والے منصوبے پیش کیے ۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران امن و امان، صحت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں مسلسل سرمایہ کاری نے صوبے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے ۔ وفاق میں سندھ کے کردار کو مزید تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا ان کی حکومت قومی استحکام کی حمایت جاری رکھے گی، تاہم صوبے کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کا بھرپور دفاع بھی کرے گی۔مراد شاہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فریم ورک کو مزید وسعت دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ برسوں میں سندھ اس ماڈل کو اگلی سطح تک لے جائے گا اور بڑے بنیادی ڈھانچے ، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے منصوبے شروع کیے جائیں گے ۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ تقسیم پیدا کرنے والی سیاست سے گریز کریں اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے ساتھ تمام طبقات کے جذبات کا احترام کریں، صوبے کے آئینی و مالی حقوق کا دفاع کرینگے ۔
مراد شاہ نے کہا جمہوری نظام میں سیاسی اختلافات ایک فطری امر ہیں، تاہم انہیں ذمہ داری کے ساتھ، تاریخی حقائق، عوامی حساسیت اور قومی یکجہتی کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کیا جانا چاہیے ۔اپنی اختتامی تقریر جاری رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بجٹ پر بحث کے دوران کیے گئے ان دعووں کو سختی سے مسترد کیا جنہیں انہوں نے حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیا۔سندھ کے نظام صحت کا دفاع کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ معیاری طبی سہولیات صرف کراچی تک محدود ہیں۔ انہوں نے گمبٹ اور سکھر کے اسپتالوں کے علاج سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے اور کہا کہ خصوصی طبی سہولیات، جن میں برن ٹریٹمنٹ کی سہولت بھی شامل ہے ، کراچی کے علاوہ گمبٹ اور حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں بھی دستیاب ہیں۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جاری منصوبوں پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ بعض اپوزیشن ارکان کے دعووں کے برعکس صوبائی حکومت خودمختار مالی ضمانتیں جاری نہیں کر سکتی۔وزیراعلیٰ نے کراچی کی ترقی پر سابقہ بلدیاتی ادوار کے دوران ہونے والے اخراجات سے متعلق دعووں کی بھی تردید کی۔ انہوں نے کہا اس دور سے پہلے اور بعد میں بھی بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ۔ انہوں نے مختلف وفاقی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی کے لیے کئی بڑے ترقیاتی پیکیجز کا اعلان کیا گیا، لیکن انہیں کبھی مکمل طور پر عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ انہوں نے کہا اس وقت وفاقی تعاون صرف چند سڑکوں کے منصوبوں تک محدود ہے ۔انہوں نے کراچی کے لیے تقریباً 1.7 کھرب روپے مالیت کے وسیع تر ترقیاتی پروگرام پر عمل درآمد کے حکومتی عزم کا بھی اعادہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے مزید اعلان کیا کہ قومی ادارہ برائے امراض قلب میں بچوں کے امراض قلب کا منصوبہ رواں سال مکمل ہونے کی توقع ہے ، کیونکہ اس کی تکمیل میں حائل رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ناقدین کو چیلنج کیا کہ اگر بدعنوانی یا کمیشن لینے کے دعووں کے حق میں کوئی ثبوت موجود ہے تو وہ پیش کیا جائے ۔ اپنی تقریر کے اختتام پر مراد علی شاہ نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ صوبائی حکومت نے 40 ارب روپے کا رمضان پیکیج تقسیم کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا کوئی پروگرام شروع ہی نہیں کیا گیا، لہٰذا اس حوالے سے کی جانے والی تنقید بے بنیاد ہے ۔