معاشی غیر یقینی صورتحال ، جامعات داخلوں میں نمایاں کمی ریکارڈ

 معاشی غیر یقینی صورتحال ، جامعات داخلوں میں نمایاں کمی ریکارڈ

طلبہ کی تعداد 2020-21میں 22لاکھ 30ہزار ، 2024-25میں 19لاکھ 60ہزار داخلوں میں کمی کا سبب فارغ التحصیل افراد کیلئے روزگار نہ ہونا ،گیلپ اینڈ گیلانی سروے

 اسلام آبا د (وقائع نگار)پاکستان اکنامک سروے 2025 کے مطابق یونیورسٹیوں میں طلبہ کی مجموعی تعداد 2020-21 میں 22 لاکھ 30 ہزار کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد کم ہو کر 2024-25 میں 19 لاکھ 60 ہزار رہ گئی، جو تقریباً 2 لاکھ 62 ہزار طلبہ  کی کمی اور بلند ترین سطح کے مقابلے میں 11.8 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے ۔گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کے حالیہ تجزیے کے مطابق پاکستان میں 2014-15 سے 2020-21 کے دوران اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی جس کے نتیجے میں یونیورسٹیوں میں داخلوں کی تعداد 13 لاکھ سے بڑھ کر 22 لاکھ 30 ہزار تک پہنچی ۔ اس عرصے میں 9 لاکھ سے زائد نئے طلبہ نے جامعات میں داخلہ لیا جس کی بڑی وجوہات میں نئے کیمپسز کا قیام، اعلیٰ تعلیم کی گنجائش میں اضافہ اور تعلیمی مواقع تک بہتر رسائی شامل تھی ۔رپورٹ کے مطابق 2020-21 کے بعد یہ رجحان تبدیل ہونا شروع ہوا اور 2022-23 میں یونیورسٹیوں میں طلبہ کی تعداد کم ہو کر 19 لاکھ 40 ہزار رہ گئی۔ بعد ازاں 2024-25 میں معمولی بہتری کے ساتھ یہ تعداد 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچی ۔ داخلوں میں کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو معاشی غیر یقینی صورتحال، بلند افراطِ زر، تعلیمی اخراجات میں اضافے ، روپے کی قدر میں کمی اور بیرون ملک ہجرت میں اضا فہ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ دستیاب اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم سے متعلق پالیسی مباحثہ اب صرف یونیورسٹی نشستوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں رہا بلکہ توجہ اس بات پر مرکوز ہو رہی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کس حد تک طلبہ کو روزگار اور معاشی مواقع سے مؤثر انداز میں جوڑنے میں کامیاب ہو رہی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں