رینجرز کیمپ حملہ:گرفتارزخمی افغان دہشتگرد کے ہوشربا انکشافات
میرے ساتھ عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق تھے ،عبدالہادی مارا جا چکا ہمیں افغانستان میں تربیت دی گئی ، اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا افغانستان میں کمانڈر کا نام احرار مولوی ہے ،ٹریننگ عمر قاری نے دی تھی کراچی آنے سے پہلے ہمارے لئے افغانستان سے سب انتظامات ہو گئے :عثمان
راولپنڈی،کراچی(خصوصی نیوز رپورٹر،دنیا نیوز)پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر حملے میں ملوث زخمی افغان دہشتگرد نے ہوشربا انکشافات کئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان رینجرز کیمپ پر بزدلانہ حملے میں ملوث گرفتار دہشت گرد عثمان علی دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار سے تعلق رکھتا ہے اور اس نے اپنے انکشافات میں کہا ہے کہ میرے ساتھ 3 اور ساتھی بھی تھے جن کا نام عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق تھا ، دہشتگرد عبدالہادی مارا جا چکا ،ہم لوگ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے سات دن قبل پاکستان آئے ، یہاں ہمارا سہولت کار باجوڑ کا رہائشی عبدالہادی تھا۔ زخمی دہشتگرد عثمان نے مزید کہا کہ ہمیں زیر تعمیر بلڈنگ میں رکھا گیا ، حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا، دہشت گرد جانان نے پاکستان رینجرز کے کیمپ پر بم پھینکا تھا، دوسری طرف جانے کیلئے بھاگنے کے دوران مجھے گولی لگ گئی اور میں گر گیا۔ دہشت گرد عثمان نے کہا کہ میرا تعلق جماعت الاحرار سے ہے جس کے افغانستان میں کمانڈر کا نام احرار مولوی ہے ،ہم سب کو افغانستان میں خود کش جیکٹ اور دیگر ٹریننگ عمر قاری نے دی تھی ،کراچی آنے سے پہلے ہمارے لئے افغانستان سے سب انتظامات ہو گئے تھے ، عبدالہادی یہاں سب جانتا تھا، پہلے ہمیں فوج اور رینجرز میں فرق معلوم نہیں تھا، پھر یہاں آ کر رینجرز سے واقف ہوئے اور ہمیں یہ بتایا گیا کہ یہ سب کافر ہیں ۔