خالی اسامی کے بغیر ترقی پر سابقہ سینیارٹی کا حق نہیں:سپریم کورٹ
اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ پاکستان نے قرار دیا کہ سرکاری ملازم کو صرف اس وقت ترقی اور سینیارٹی کا حق حاصل ہوگا جب اس کے مقررہ کوٹے میں خالی اسامی موجود ہو۔
قواعد کے برخلاف یا خالی اسامی کے بغیر دی گئی ترقی کی بنیاد پر سابقہ تاریخ سے سینیارٹی نہیں دی جا سکتی۔ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے محکمہ ریونیو سندھ کے مختیارکاروں (بی ایس۔16) کی سینیارٹی کے مقدمے میں سندھ سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا اور دائر سول پٹیشنز مسترد کر دیں۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ڈیفرمنٹ اور سپرسیشن دو الگ قانونی تصورات ہیں، ڈیفرمنٹ ملازم کی نااہلی نہیں بلکہ انتظامی وجوہات پر ترقی میں عارضی تاخیر ہوتی ہے ، سپرسیشن اس وقت ہوتی ہے جب افسر کو اہلیت یا دیگر قانونی وجوہات پر ترقی کیلئے موزوں نہ سمجھا جائے ۔ محکمہ ریونیو سندھ نے سپریم کورٹ کے 2021 کے فیصلے کی روشنی میں نئی سینیارٹی لسٹ مرتب کی، سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور سندھ سول سرونٹس رولز 1975 کے مطابق سینیارٹی کا تعین کیا گیا لہذا ٹربیونل کے فیصلے میں مداخلت کی قانونی وجہ موجود نہیں۔