بارش سے چھت ٹپکتی تھی جو پکی کرائی:زخمی ٹیچر
اندازہ نہ تھا چھت گرے گی،اللہ کی طرف سے ہوا، مزدورکام نہیں کررہا تھا شوہر پھل فروش، 400روپے دیہاڑی، حکومت نے ریڑھی نہیں دی:انیلہ
لاہور،کاہنہ (کرائم رپورٹر،ہیلتھ رپورٹر،نامہ نگار)کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں زخمی ہونے والی خاتون ٹیچر انیلہ ریحان لاہور کے جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں ان کی حالت پہلے سے بہتر بتائی جا رہی ہے ۔ان کے سر کے دائیں حصے اور پیشانی پر معمولی زخم آئے ۔ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار خاتون کی سکیورٹی کے لیے جنرل ہسپتال میں موجود ہیں، جبکہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد انہیں حراست میں لیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ۔زخمی ٹیچر انیلہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ دو سال سے مالی مشکلات کے باعث بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی تھیں جبکہ ان کے شوہر پھل بیچتے ہیں اور گھر کے پاس ہی ریڑھی لگاتے ہیں، ان کے شوہر کو حکومت کی طرف سے کوئی ریڑھی نہیں دی گئی، وہ خود محنت کرتے ہیں، شوہر کی ایک دن کی کمائی اور بمشکل بچت صرف 400 روپے تک ہوتی ہے ، اسی لیے گھر کا پورا نظام اور کچن وہ خود اکیڈمی چلا کر سنبھالتی تھیں،ان کے مطابق حالیہ بارشوں کے باعث مٹی کی چھت سے پانی رسنے لگا تھا، جس پر مرمت کا کام شروع کیا گیا، مالی حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ ہم چھت پر سیمنٹ کا لینٹر ڈال سکیں، اس لیے کچی چھت کو ہی پکا کروایا تھا اور اس کا کام بھی مکمل ہو چکا تھا، حادثے کے وقت وہاں کوئی مزدور کام نہیں کر رہا تھا،ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ چھت اچانک گر جائے گی،یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے ،انہوں نے بتایا کہ روزانہ 30 سے 35 بچے ٹیوشن پڑھنے آتے ہیں،حادثے کے وقت اکیڈمی میں 20 سے 22 بچے موجود تھے جبکہ ان کی اپنی بیٹی بھی زخمی ہوئی، جسے ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔