پاکستان افغان سرزمین سے دہشتگردی کو ہضم کرنے پر تیار نہیں

پاکستان افغان سرزمین سے دہشتگردی کو ہضم کرنے پر تیار نہیں

دہشتگردی پر قابو پا لیا تو پاکستان کو معاشی محاذ پر آگے بڑھنے سے روکنا ناممکن ہوگا

(تجزیہ:سلمان غنی)

پاکستان کی جانب سے افغان بارڈر کے ارد گرد دہشت گردوں کے مراکز پر کارروائی پر بھارتی واویلا دراصل اس مذموم عمل کی تائید ہے جو طویل عرصہ سے یہاں سے جاری ہے ، افغان سرزمین سے دہشت گردی کی ان کارروائیوں کے شواہد خود حکومت افغان انتظامیہ اور عالمی قوتوں اور اداروں کو بھی فراہم کر چکی ہے ،اب جبکہ پاکستان کی جانب سے بار بار افغان طالبان پر ڈالے جانے والے اس دباؤ پر کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کی کارروائیوں کا سدباب کریں،دہشت گردوں کے مراکز اور ان کے ٹریننگ کیمپس پر کارروائی کا عمل بھارت کو ہضم نہیں ہو رہا ،پاکستان نے دہشت گردوں کا پیچھا کرنا شروع کیا اور انہیں ان کے انجام پر پہنچانا شروع کیا تو اس پر بھارت پریشان نظر آ رہا ہے ،حقیقت یہ ہے کہ خود بھارت بھی اپنے ہمسایہ ممالک کو غیر مستحکم کرنے کے لئے دہشت گردی اور تخریب کاری کا سہارا لیتا آیا ہے لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی کارروائی پر بھارت کی پریشانی کیا ہے ؟مجموعی طور پر بھارت کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر واویلا کا جائزہ لیا جائے تو اس کا مقصد پاکستان پر سفارتی دباؤ برقرار رکھنا اور بین الاقوامی بیانیہ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا ہو سکتا ہے ،ان کے نزدیک پاکستان کی موثر انسداد دہشت گردی کارروائیاں اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ پاکستان اپنی داخلی سلامتی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے ،افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر بھارت کی پریشانی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگر پاکستان دہشت گردی نیٹ ورک کے خاتمہ اور دہشت گردوں کو انجام پر پہنچانے میں کامیاب رہا تو پھر یہ افغان انتظامیہ کی ناکامی بھی ہوگی اور خود بھارت کے لئے بھی پریشانی بڑھے گی ،پاکستان کا موقف یہ ہے کہ مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ملکی سلامتی کے لئے ضروری ہیں اور ان کا مقصد کالعدم تنظیموں اور سرحد پار سے آنے والے عسکریت پسندوں کا خاتمہ ہے ،جہاں تک سوال ہے کہ بھارت کو افغان انتظامیہ کے مفادات اتنے عزیز کیوں ہیں تو بھارت کی کوشش رہی ہے کہ کابل سے دہلی کے ایسے تعلقات رہیں جو اسلام آباد پر سفارتی دباؤ بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں،بھارت افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں کو جواز بنا کر دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ پاکستان افغانستان پر براہ راست حملہ آور ہے لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ عالمی قوتیں اور عالمی ادارے پاکستان کے اس اصولی موقف کے ساتھ کھڑے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل ہے ، خود پاکستان اپنے علاقوں میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کے عمل کو کسی صورت ہضم کرنے کو تیار نہیں ،پاکستان کی فورسز نے دہشت گردی کے رحجان پر قابو پا لیا تو پاکستان کو معاشی محاذ پر آگے بڑھنے سے روکنا ناممکن ہوگا ، پاکستان دفاعی اعتبار سے خود انحصاری کی منزل پر پہنچنے کے بعد معاشی محاذ پر بھی استحکام کی منزل پر پہنچ جائے گا اور خطہ میں اسے چیلنج کرنے ولا کوئی نہیں ہوگا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں