جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کا معاملہ، امریکی شمولیت کا خیر مقدم کرینگے : پاکستان
بینکاک،کولمبو میں ملاقاتوں پر تبصرہ نہیں کرسکتے ،بھارت کیساتھ روابط سے متعلق ہماری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،ہر معاملے پر پاکستان کی قانونی و سیاسی پوزیشن بہت مضبوط:ترجمان دفتر خارجہ دریاؤں کارخ موڑنے کی بھارتی کوشش امن کیلئے سنگین خطرہ،753 پاکستانی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی ،افغانستان میں مارے گئے 29افرادہشتگرد تھے :طاہر اندرابی کی پریس بریفنگ
اسلام آباد(وقائع نگار، مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی اور بھارتی شخصیات کے درمیان ٹریک ٹو ملاقاتوں اور وزرائے اعظم کو لکھے گئے خط کے حوالے سے پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کے امور پر امریکی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا۔ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ نے ان ملاقاتوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی اور نہ ہی شہباز شریف اور نریندر مودی کے نام لکھے گئے خط پر تبصرہ کیا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک امن اور سلامتی کے امور میں مدد کے مقصد سے انڈیا اور پاکستان دونوں کے ساتھ رابطہ کرنا چاہتا ہے تو پاکستان اس میں شامل ہو سکتا ہے ۔خیال رہے کہ انڈیا اور پاکستان کے سو سے زائد ممتاز شخصیات نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے مشترکہ اپیل کی ہے کہ وہ باہمی مذاکرات، سفارتی تعلقات، تجارت اور عوامی روابط کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفننگ کے دوران ٹریک ٹو سفارتکاری کے تحت ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ ہم بینکاک اور کولمبو میں ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق رپورٹس سے آگاہ ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یہ ٹریک ون ملاقاتیں نہیں ہیں، اس لیے میں اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ مختلف مبصرین انھیں جو بھی نام دیں، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس نوعیت کی ملاقاتوں کی میزبانی نجی تھنک ٹینکس نے کی ہو۔ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے ساتھ روابط کے حوالے سے ہماری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔اسلام آباد کا موقف ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کے امور پر امریکی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ انڈیا سے متعلق ہر معاملے پر پاکستان کی قانونی اور سیاسی پوزیشن بہت مضبوط ہے ۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہر معاملے پر ہماری پوزیشن بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی شقوں کے مطابق ہے ۔ اس لیے ہمیں اعتماد ہے کہ اگر کوئی ملک امن اور سلامتی کے امور میں مدد کے مقصد سے انڈیا اور پاکستان دونوں کے ساتھ رابطہ کرنا چاہتا ہے تو پاکستان اس میں شامل ہو سکتا ہے ۔ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا انڈیا بین الاقوامی رابطوں سے گریز کرتا ہے کیونکہ جموں و کشمیر، سرحد پار دریائی پانی اور انسداد دہشت گردی پر اس کی پوزیشن بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے مطابقت نہیں رکھتی۔اس کے برعکس پاکستان بین الاقوامی برادری، بشمول امریکا، کی کسی بھی مثبت شمولیت کا خیرمقدم کرے گا۔اس سوال پر کہ کیا کولمبو میں ہونے والی ملاقات میں وزارت خارجہ کے ڈی جی ساؤتھ شامل تھے ، طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ میں اس شرکت سے متعلق آگاہ نہیں ہوں۔
تاہم میں یہ بتا سکتا ہوں کہ ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا کولمبو میں اپنے لازمی تربیتی کورس کے سلسلے میں موجود تھے ۔پاکستانی اور بھارتی شخصیات کی جانب سے دونوں وزرائے اعظم کو لکھے گئے خط پر انھوں نے کہا کہ یہ نجی افراد ہیں اور وہ جو چاہیں لکھنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور وزارتِ خارجہ نہ اس کی توثیق کرتی ہے اور نہ ہی اسے مسترد کرتی ہے۔ اس حوالے سے ہمارے پاس کوئی خاص تبصرہ کرنے کے لیے نہیں ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان کو اس کے جائز حصے سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہوگی،پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے ۔ دوحہ میں امریکا اور ایران نے مختلف امور پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ،مذاکرات کا اگلا دور ایران کے سابق سپریم لیڈر کی تدفین اور متعلقہ تقریبات کے بعد متوقع ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا پاکستان اس حقیقت سے غافل نہیں کہ بھارت دریاؤں کا رخ موڑنے کے منصوبوں کے لیے باقاعدہ بجٹ مختص کر رہا ہے ،انہوں نے کہاپاکستان پانی کی تقسیم سے متعلق کسی بھی جامع مذاکراتی عمل میں چین کی شمولیت کی حمایت کرتا ہے ، کیونکہ یہ دریا ہمالیہ سے نکلتے ہیں اور ان سے بہنے والے پانی سے متعدد ممالک مستفید ہوتے ہیں، اس لیے ان تمام ممالک کو اس عمل میں شامل ہونا چاہئے ۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے 753 پاکستانی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی، فہرست وزارت خارجہ اور نئی دہلی میں پاکستان مشن کے ریکارڈ کی بنیاد پر مرتب کی گئی، انہوں نے بتایا کہ پاکستان مختلف بحری جہازوں سے منتقل کیے گئے 70 سے زائد ایرانی شہریوں کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کر چکا ہے ۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی فضائی کارروائیاں انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ کی گئیں، جن میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 29 دہشت گرد ہلاک ہوئے ۔ انہوں نے کہا اہداف کے انتخاب اور کارروائی کے دوران غیر معمولی احتیاط برتی گئی تاکہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جائے ۔ افغانستان کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز کو پاکستان کے دفاعی اداروں نے فوری طور پر ٹریک کیا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں کامیابی سے نیوٹرلائز کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھاتا رہے گا۔ترجمان نے بتایا کہ صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کی رہائی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔ پاکستان مسلسل پنٹ لینڈ حکام، صومالی حکومت، جہاز کے مالکان اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہے ۔