باغبانپورہ : سمر کیمپ کے دوران سکول کی چھت گرگئی، بچہ جاں بحق، 5 زخمی
سکول غیر رجسٹرڈ، نقشہ منظور نہ ہونے پر 5 روز قبل عمارت سیل کی گئی،پھر بھی تعمیراتی کام جاری تھا لینٹر کھولتے ہی چھت نیچے آگری،ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج ،سکول مالکن گرفتار،3استانیاں رہا 2 اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر معطل،مزید کیخلاف کارروائی کیلئے ریفرنس،کاہنہ واقعہ کی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش
لاہور (کرائم رپورٹر، خبر نگار، مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں ایک نجی سکول کے سمر کیمپ کے دوران زیر تعمیر عمارت کی چھت گرنے سے ایک کمسن بچہ جاں بحق جبکہ5افرادزخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد3ٹیچرزسمیت سکول انتظامیہ کے پانچ افراد کو حراست میں لے کر سکول کو سیل کر دیا گیا،سکول ٹیچرز کو بعدازاں رہا کر دیا گیا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فوری نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی جبکہ صوبہ بھر کے سکولوں کی عمارتوں کے سیفٹی آڈٹ کا حکم دے دیا گیا۔ریسکیو 1122 کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب سکول کی زیر تعمیر تیسری منزل پر لینٹر کھولا جا رہا تھا، ملحقہ عمارت میں تقریباً 70 بچوں کیلئے سمر کیمپ جاری تھا کہ اچانک چھت کا بڑا حصہ نیچے آ گرا۔ ریسکیو اور مقامی افراد نے امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ملبے تلے دبے افراد کو نکالا۔ آٹھ سالہ ابوبکر جاں بحق ہوگیا جبکہ زخمی مزدور ندیم، شکیل، فیض احمد اور وسیم کو سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی۔ایک سات سالہ زخمی بچہ شایان نجی ہسپتال میں لایا گیا جسے طبی امداد دینے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق متعلقہ نجی سکول رجسٹرڈ نہیں تھا اور حکومتی پابندی کے باوجود وہاں غیر قانونی طور پر سمر کیمپ چلایا جا رہا تھا۔ پولیس نے سکول کی پرنسپل نازیہ رضوان سمیت 4خاتون ٹیچرز اور چوکیدار کو حراست میں لے لیا ہے ۔پولیس نے واقعہ کا مقدمہ تحصیلد ار رائے محمد اشرف کی مدعیت میں درج کرلیا،جس میں ٹھیکیداراشرف اور سکول کی مالکہ نازیہ رضوان کو ملزم نامزد کیاگیاہے ۔ایف آئی آر کے مطابق النصر پرائیویٹ سکول کا تعمیراتی کام جاری تھا کہ ناقص میٹریل استعمال کرنے کی وجہ سے چھت کا لینٹر گرگیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر لاہور اور ڈی جی ریسکیو سے فوری رپورٹ طلب کی، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور غفلت یا غیر معیاری تعمیرات کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا۔ انہوں نے صوبے بھر میں گنجان آباد علاقوں میں قائم تمام سکولوں کی عمارتوں کا فوری سیفٹی آڈٹ کرانے کی بھی ہدایت کی۔
دوسری جانب محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے سکول کو سیل کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے ۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سکول محکمہ تعلیم سے رجسٹرڈ نہیں تھا۔ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے دو اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کو معطل کر دیا ہے جبکہ مزید افسروں کی معطلی کیلئے بھی ریفرنس بھجوا دیا گیا ہے ۔ شہر بھر میں غیر قانونی سمر کیمپس اور غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے ،دوسری طرف رات گئے باغبانپورہ پولیس نے حراست میں لی جانے والی سکول کی 3 استانیوں کو رہا کر دیا،آپریشن ونگ پولیس نے سکول کی مالکن نازیہ رضوان کو مقدمہ کے بعد انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا ہے ،دوسری طرف ٹھیکیدار اشرف تاحال مفرور ہے ،اس کی گرفتاری کیلئے پولیس چھاپے مار رہی ہے ،جاں بحق ہونے والے بچے کی لاش کو رات گئے پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا ۔لاش جیسے ہی گھر پہنچی گھر میں صف ماتم بچھ گئی ۔
معصوم بچے کی ماں لاش کو دیکھ کر بے ہوش ہو گئی ،بچے کا والد امجد اور دیگر اہلخانہ بھی غم سے نڈھال ہو گئے ۔ ادھر دو روز قبل کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت کے سانحے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ بھی وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کر دی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق کمزور ٹی آئرن اور گارڈر والی چھت پر ضرورت سے زیادہ مٹی اور ملبہ ڈالنے کے باعث ڈھانچہ بوجھ برداشت نہ کر سکا اور چھت منہدم ہو گئی۔ حادثے کے وقت 20 بچے اور ایک خاتون ٹیچر چھت کے نیچے موجود تھے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کی اموات زیادہ تر سر پر شدید چوٹیں آنے سے ہوئیں، جبکہ گھر کے مالک اور اس کے بھائی سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے ٹیوشن سنٹرز اور تعلیمی اداروں کے لیے سخت حفاظتی ضوابط نافذ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
لاہور (عمران اکبر )باغبانپورہ کے علاقے میں گرنے والی 2مرلہ عمارت کے بارے میں انکشاف ہوا ہے اسے نوٹس جاری کئے جانے کے بعد سیل کیا گیا تھا،عمارت کے مالک فخر کو نقشہ منظور نہ کرنے پر 27 جون کو نوٹس جار ی کیا گیا ،عمارت سیل ہونے کے بعد بھی کام جاری تھا، پہلی منزل کا لینٹر پہلے ڈالا گیا بعد میں گراؤنڈ فلور کی چھت کی تعمیروبحالی کا کام ہوا، لینٹر عمارت کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد ڈالا گیا، عمارت سیل ہونے کے 5 روز بعد لینٹر کی گو کھولنے کی کوشش کی گئی تو چھت زمین بوس ہوگئی، ایم او پلاننگ زونل آفیسر رائے امتیازنے عمارت کو دورہ کیا اور کہا دو مرلہ کی عمارت کو سیل کیا گیا تھا تاکہ کو ئی تعمیر نہ کی جائے جلد بازی میں لینٹر کو کھولنے کی کوشش کی گئی اور نقصان اٹھانا پڑا ۔