پاک بھارت تعلقات بحالی کیلئے مکتوب سنجیدہ کوشش

پاک بھارت تعلقات بحالی کیلئے مکتوب سنجیدہ کوشش

حقیقی پیش رفت کیلئے عوامی رویے میں تبدیلی ،میڈیا کی ذمہ داری درکار

(تجزیہ:سلمان غنی)

پاکستان اور بھارت کی 117ممتاز شخصیات کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی کو لکھے جانے والے ایک مکتوب میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لئے اقدامات کرنے ،مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی ،ہائی کمشنرز کی دوبارہ تقرری ،ویزا سروس کی بحالی اور کمرشل پروازوں کے لئے فضائی حدود کھولنے پر زور دیا گیا ہے ،اسے ایک غیر معمولی عمل کے طورپر دیکھا جا رہا ہے ،پاکستان کا اصولی موقف یہ رہا ہے کہ بھارت سے اچھے تعلقات کے لئے کشمیر سمیت بنیادی تنازعات پر بیٹھ کر گفتگو کی جائے ا ور دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ایک میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل نکالا جائے لیکن جب سے بھارت میں نریندر مودی برسراقتدار آئے ہیں تب سے اب تک تعلقات کار میں اصل رکاوٹ ان کا پاکستان کے حوالے سے انتہا پسند طرز عمل رہا ہے اور وہ پاکستان سے تعلقات کار سے گریزاں رہے ہیں ۔

جبکہ پاکستان کے وزیراعظم نے اس منصب پر پہنچنے کے بعد ہمیشہ ہمسایہ ممالک خصوصاً بھارت سے اچھے تعلقات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے متنازع ایشوز کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی بات کی لیکن بامقصد مذاکرات کی ہر پیشکش کو بھارتی حکومت مسترد کرتی رہی ہے ،مذکورہ مکتوب کا عمل تعلقات بحالی کیلئے ایک سنجیدہ کوشش ضرور ہے مگر بڑا سوال تو یہی ہوگا کہ بنیادی تنازعات کو چھوڑ کر مذاکرات اور تعلقات کی بحالی کی خواہش پر پیش رفت ہو سکتی ہے ؟ جب بھارتی لیڈر شپ متنازع ایشو کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے ا ور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد سے گریز برتے تو پھر کیا فریقین ایک میز پر آ سکتے ہیں؟ عملاً دیکھا جائے تو پاکستان نے صدر ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد انہیں ثالثی کردار سونپ کر بھارت سے تنازعات پر بات چیت کا سگنل دیا لیکن بھارت نے اپنے عالمی اتحادی پر بھی عدم اعتماد کرتے ہوئے ثالثی عمل کو ٹھکرا دیا اور مذاکرات پر آنے سے گریز برتا ،ایسے میں پاکستان اور بھارت کی اعلیٰ شخصیات خصوصاً سیاسی لیڈر شپ کا کردار اہم ہو سکتا ہے لیکن انہیں اپنی پشت پر موجود طاقتوں خصوصاً اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ لینا پڑے گا کیونکہ اس کے بغیر اعلیٰ شخصیات کا کردار علامتی ہوگا حقیقی نہیں ،اگر دونوں ملکوں کی سیاست اور حالات کا جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہوگاکہ پاکستان نے یہاں انتخابات میں بھارت سے دشمنی کو ایشو نہیں بنایا جبکہ دوسری طرف نریندر مودی اپنے مخصوص طرز عمل کی بنا پر اپنی انتخابی مہم پاکستان دشمنی کی بنا پر چلاتے نظر آتے ہیں،اس ضمن میں انہوں نے کبھی پلوامہ ، کبھی اڑی اور کبھی پہلگام واقعہ کو بنیاد بنایا ، 2021 میں افواج کے درمیان ڈی جی ایم او کی سطح پر بات چیت ہوئی لیکن وہ بھی جنگ بندی تک محدود رہیں بنیادی تنازعات ویسے کے ویسے رہے اور ماہرین کے مطابق تعلقات کی بحالی کا دارو مدار عوامی سطح پر رویوں میں تبدیلی میڈیا کی ذمہ داری اور سب سے اہم دونوں طرف کے فیصلہ سازوں کی مرضی اور مفاہمت پر مبنی ہے اس کے بغیر کوئی بھی اعلیٰ شخصیات علامتی کردار تو ادا کر سکتی ہیں حقیقی معنوں میں پیش رفت ممکن نہیں بن سکتی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں