ذیلی کمیٹی:پیداواری ایریازکوگیس کی عدم فراہمی پررپورٹ طلب
23برس سے پی ایم کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونیکی وجوہات،ذمہ داران کے تعین کا حکم دیا وزارتِ پٹرولیم متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد رپورٹ پندرہ روز میں پیش کرے ،کمیٹی
اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے ،سٹاف رپورٹر) ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کی ذیلی کمیٹی کا پہلا اجلاس کنوینر سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیرصدارت او جی ڈی سی ایل اسلام آباد میں ہوا جس میں وزیراعظم پاکستان کے 15ستمبر 2003کے احکامات اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع آبادیوں کو گزشتہ 23برس سے گیس کی فراہمی نہ ہونے کا جائزہ لیا گیا۔سینیٹر جام سیف اللہ خان نے کہا کہ مقامی آبادی کو گیس کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے اور احکامات پر عملدرآمد نہ ہونا افسوسناک ہے ۔ انہوں نے آئندہ اجلاس میں تمام متعلقہ وزارتوں، گیس کمپنیوں اور اداروں کے سربراہان کی ذاتی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کی طرز پر گھوٹکی، ماڑی، قادرپور اور دیگر گیس پیدا کرنے والے علاقوں کو بھی گیس فراہم کی جائے۔
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم نے 15ستمبر 2003کو تمام گیس فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع آبادیوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہمی کی ہدایت دی تھی جبکہ سپریم کورٹ نے 27 دسمبر 2013 کے فیصلے میں بھی اس پر عملدرآمد کا حکم دیا۔ کمیٹی نے سیکرٹری وزارتِ پٹرولیم کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد وزیراعظم کے احکامات اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات، ذمہ داران اور قابلِ عمل سفارشات پر مشتمل جامع رپورٹ 15 روز میں پیش کی جائے ۔ آئندہ اجلاس میں وزارتِ خزانہ، وزارتِ منصوبہ بندی، وزارتِ پٹرولیم، اوگرا، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، سوئی سدرن، سوئی ناردرن، ماڑی انرجیز اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام کو طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز سے بھی پانچ کلومیٹر دائرہ کار میں گیس فراہمی کی تفصیلات طلب کرنے کی ہدایت کی۔