ایران، امریکہ مذاکرات کے باوجود آبنائے ہرمز مکمل بحال نہ ہو سکی
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد ایم او یو اور اس کے بعد قطر میں ہونے والے مذاکرات جس میں دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ بات چیت جاری رہے گی اور اگلا مذاکرات کا دور اسلام آباد میں متوقع ہے۔۔۔
لیکن اس تمام تر پیش رفت کے باوجود آبنائے ہرمز میں ٹریفک 28 فروری سے پہلے والی پوزیشن پر واپس نہ آ سکی،مارکیٹ انٹیلی جنس پر کام کرنے والے ادارے کیپلر کے مطابق 3 سے 5 جولائی کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت فعال تو رہی لیکن 3 سے 5 جولائی کے درمیان مجموعی طور پر 108 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ۔28 فروری سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 120 سے 125 یا اس سے زائد جہاز گزرتے تھے ،کیپلر کے مطابق ان 108 گزرنے والے جہازوں کی مختلف اقسام کے بحری جہاز اور کارگو بردار جہاز شامل تھے ، ان 108 جہازوں میں پابندیوں کی زد میں آنے والے جہازوں کی سرگرمی بھی دیکھی گئی۔ پابندیوں کا شکار 14 بحری جہازوں کا گزرنا ریکارڈ کیا گیا،کیپلر کے مطابق جہازوں کی آمدورفت کا رجحان معمولی طور پر مشرق سے مغرب کی جانب زیادہ رہا، یعنی نسبتاً زیادہ بحری جہاز خلیج فارس سے نکل کر بحرِ عمان کی جانب گئے ، جبکہ اس کے مقابلے میں بحرِ عمان کی طرف سے خلیج فارس میں کم جہاز آئے ، اس دوران زیادہ تر بحری جہازوں نے ایرانی اور عمانی بحری راستوں کا استعمال کیا، جبکہ بعض جہاز آئی ایم او سے رجسٹرڈ اور ڈارک یا نامعلوم راستوں سے بھی گزرتے رہے ۔ماہرین کے مطابق یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ بحری سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم راستوں میں تقسیم اور محتاط طرزِ عمل سامنے آ رہا ہے ۔