کام کی جگہ ہراسگی، وفاقی محتسب کا ملزمان پر 27 لاکھ روپے جرمانہ
ہراسگی، انتقامی رویہ ناقابلِ برداشت، اس کے سخت نتائج سامنے آئینگے :محتسب ادارہ 15روز میں شکایت گزار کو تنخواہ اور واجبات ادا کرے :فیصلے میں ہدایت
اسلام آباد(نامہ نگار)وفاقی محتسب انسدادِ ہراسگی نے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ کام کی جگہ ہراسگی اور انتقامی رویہ ناقابلِ برداشت ہے اور اس کے سخت نتائج سامنے آئیں گے ۔ شکایت گزار خاتون نے بتایا کہ مختلف عہدوں پر فائز افراد نے اسے ہراساں کیا، دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دی اور پروڈکٹ سیمپل دکھاتے وقت اس کا ہاتھ پکڑا، نجی پیغامات کی تصاویر لیں اور دھمکیاں دیں۔ ملزمان نے اپنے دفاع میں شکایت گزار کی شخصیت اور لباس کو نشانہ بنایا، تاہم شواہد کی بنیاد پر ہراسگی ثابت ہوگئی۔
فیصلے کے مطابق مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا جس میں سے 5 لاکھ 40 ہزار روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوں گے اور 21 لاکھ 60 ہزار روپے شکایت گزار کو بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے ۔ ادارے کو ہدایت کی گئی کہ پندرہ دن کے اندر شکایت گزار کو واجبات، تنخواہ اور کلیئرنس فراہم کرے، اور تیس دن کے اندر انسدادِ ہراسگی کمیٹی نئے سرے سے تشکیل دے ۔ محتسب نے واضح کیا کہ خوش اخلاقی کو رضامندی نہیں سمجھا جا سکتا اور نوکری جاری رکھنے یا شکایت میں تاخیر کرنے سے مقدمہ کمزور نہیں ہوتا، شکایت گزار کا لباس یا سماجی رویہ مقدمے کا حصہ نہیں۔